Tag: Sura 4 Ayat 3


Sura 4 النساء Ayat 3 Tafseer Qari Hanif Dar


سید سعد عبداللہ کی بات کا تفصیلی جواب میری پوسٹ میں ہی موجود ہے مگر وہ اس پر غور کرے بغیر ہر جگہ اپنا جواب کاپی پیسٹ کرتے چلے جا رہے ہیں اللہ پاک نے تو کلیئر کٹ اسٹیٹمنٹ دی ہے کہ عدل نہیں کر سکتے تو ایک ہی بیوی پر اکتفا کرو [ فواحدۃً] سے بڑھ کر مزید کلیئر کٹ فیصلہ کیا ھو گا ؟ ،، فان خفتم ان لا تعدلوا سے بھی پہلے وَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى،، موجود ہے جس حکم سے آیت شروع ہوئی ہے کہ اگر تمہیں خدشہ ہو کہ تم یتیموں میں انصاف نہیں کر سکو گے تو ان کی ماؤں سے نکاح کر لو تا کہ وہ تمہارے رشتےدار بن جائیں ، ان کی مائیں تمہاری محرم اور بیٹیاں بھی محرم بن جائیں ،، حکم یتیموں کی کفالت کا دیا گیا ہے، اس لئے کہ یتیموں کے چچا اور تایا جو یتیموں کی کم عمری کی وجہ سے اس مال کے نگران مقرر ہوتے تھے ان سے کہا گیا کہ وہ یتیموں کا مال ٹھیک طور پر ان کو ادا کریں ،اچھی چیز کے بدلے ان کو گھٹیا تبدیل کر کے نہ دیں نیز ان کا مال اپنے مال میں مکس کر کے نہ کھائیں ، یہ بڑے گناہ کا کام ہے پھر فرمایا کہ اگر یتیموں کی کفالت مسائل پیدا کرے تو ان کی ماؤں سے شادی کر لو یعنی بھاوج کو بیوی بنا لو ظاھر ہے یہاں یتیموں کے کفیل مخاطب ہیں جو کہ پورا گاؤں نہیں ہو سکتا مرحوم کے بھائی بند ہی ہو سکتے ہیں ، اگر یہ شادیاں پہلے بیوی بچوں کے لئے مسائل پیدا کریں تو بس ایک بیوی پر اکتفا کرو [ وَآتُوا الْيَتَامَىٰ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا (2) وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا (3) اس وقت اس زمانے کے حساب سے تھا اور موجودہ زمانے میں موجودہ زمانے کے حساب سے ہو گا ،، عرض کیا گیا تھا کہ اس زمانے میں دوسری یا تیسری شادی کے نتائج اس قدر بھیانک نہیں تھے ، بچے ایک کروڑ پتی باپ کے پاس رہیں یا ایک بھیک مانگنے والی ماں کے پاس ، کھانے پینے اور لباس کا فرق ہو گا ،مگر تعلیم اور مستقبل کا کوئی مسئلہ نہیں تھا ، کروڑ پتی باپ کے پاس رہنے والے بچوں نے بھی اونٹ چرانے تھے اور فقیر ماں کے پاس رھنے والوں نے بھی اونٹ ہی چرانے تھے ،مگر اب جو بچے دوسری شادی سے ڈسٹرب ہوں گے وہ بہت پیچھے رہ جائیں گے ، متحد ماں باپ کے پاس رھنے والے نہ صرف تعلیم کے لحاظ سے کسی منزل پہ پہنچ جاتے ہیں بلکہ نفسیاتی طور پر بھی متوازن ہوتے ہیں ، جبکہ گھر میں چخ چخ شروع ہو جائے یا مار کٹائی کا ماحول ہو ، روز مما روٹھ کر میکے چلی جائے اور بچوں کا کھانا پینا ، ہوم ورک اور ذہنی سکون ڈسٹرب ہو جائے تو وہ زیادہ دیر غیرجانبدار نہیں رہ پاتے اور گھر میں خانہ جنگی شروع ہو جاتی ھے جو سرد جنگ سے شروع ہو کر گرم جنگ کا روپ بھی دھار لیتی ہے ،، بچے اس ماحول سے فرار کے لئے نشے کی طرف مائل ہوتے ہیں اور پھر نشے کے لئے چوری چکاری اور دوسرے جرائم کی طرف ،، یہ ہمارے علماء کا کھلا تضاد ہے کہ ایک طرف حضرت عائشہ صدیقہؓ کے اس خدشے کو لے کر کہ ’’ اگر آج رسول اللہ ﷺ ہوتے تو عورتوں کی حالت دیکھ کر عورتوں کو مسجد جانے سے روک دیتے ‘‘ کو بنیاد بنا کر کروڑوں عورتوں کو مسجد جانے سے روک دیتے ہیں ‘‘ جبکہ اللہ نے ان کو مسجد بلایا ھے اور رسول اللہ ﷺ کے دور میں وہ مسجد میں نماز پڑھتی تھیں اور آج بھی پڑھتی ہیں ،،دوسری جانب صرف خدشہ نہیں بلکہ عملی نتائج سامنے ہیں کہ دوسری تیسری شادی کی صورت میں ۹۹ فیصد گھر برباد ہو جاتے ہیں اور بچوں کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے مگر پھر بھی بضد ہیں کہ دوسری صورت ہی افضل ہے ،، آج کا عدل صرف بیویوں تک نہیں بلکہ اولاد تک مطلوب ہے کہ ایک کو انجینئر یا ڈاکٹر بنایا ہے تو دوسری کے بچوں کو بھی برابر کی تعلیم دلانی ہو گی ، یہاں تو ایک کے بچے ہی اعلی تعلیم حاصل کر لیں تو بڑی بات ہے ،، ایف اے ، بی اے آج کوئی تعلیم نہیں ،جبکہ گزرے کل تک پانچ کلاس اور آٹھ کلاس پڑھے ٹیچر ھوا کرتے تھے اور بڑے فخر سے بتایا جاتا تھا کہ بچی پرانے زمانے کی ۸ کلاس پاس ہے ،، مقصد معاشرے کو بھکاری دینا نہیں باعزت طور کما کر کھانے والے دینا ہے ، اس زمانے میں اونٹ چرانے والے کو بھی جھٹ رشتہ مل جاتا تھا اب لوگ اسٹیٹس دیکھ کر رشتہ دیتے ہیں ،، بیٹیاں اسی وجہ سے ہی تو بیٹھی ہیں ، ہر ۲۰ سال والے کو دینا شروع کر دیں اس کا قد دیکھ کر تو بچیاں گھر میں بیٹھی ہی کیوں رہیں اور دوسری تیسری کا سوال ہی پیدا کیوں ہو ؟ لوگ رشتے داروں کی بجائے باہر بھاگتے ہیں تو کچھ لوگ برداری کے سوا باہر رشتہ کرنا جرم اور عیب سمجھتے ہیں ـ بچیوں کے رشتے نہ ہونے کی اور بہت ساری وجوہات ہیں ان کو ڈسکس کرنے کی ضرورت ہے کہ اللہ توکل رشتے کیئے جائیں ہر گھرانا اعلی تعلیم یافتہ داماد نہ ڈھونڈے ،، اور لڑکے والے بھی آسمان سے نیچے اتریں اور مالدار گھرانوں کی تلاش ترک کر کے اپنے غریب عزیز و اقارب کے یہاں سے رشتے کریں ـ کیا یہ اللہ پاک کے حکم کے ۱۸۰ ڈگری مخالف شرط نہیں ہے کہ ہماری لڑکی سے نکاح کرنے سے پہلے ،، پہلی والی کو طلاق دو ؟ اللہ اس پہلی کا تحفظ فرما رہا ھے جبکہ تم اس کا کانٹا ہی نکال رہے ہو پھر بھی دوسری شادی کو اللہ کا حکم فرما رہے ہو ؟ میں نے کئ رشتے ایسے دیکھے کہ لڑکا چاہتا ھے کہ میری پہلی بیوی ذرا سرکش ہو گئ ہے مگر اس سے میرے بچے ہیں ، جن کو الگ مکان لے کر دے رکھا ہے ،بچے اسکول پک اینڈ ڈراپ کر دیتا ھوں اور اخراجات بھی دے رہا ہوں ـ میں چاہتا ھوں کہ اپنے لئے دوسری شادی کر لوں ،، کسی جگہ بات چلائی تو لڑکی نے ہی جھٹ سے کہہ دیا کہ جب تک پہلی والی کو طلاق نہ دے دے میں اس سے شادی نہیں کرونگی ، اس لئے کہ شاید کل وہ اس کے ساتھ پھر راضی ہو جائے ،، زیادہ تر دوسری بیویاں پہلی کا کانٹا کسی نہ کسی طریقے سے نکال کر ہی دم لیتی ہیں ـ

قانون سازی یعنی شریعت میں عرف یا رواج ایک اصول ھے ، اسی لئے امام شافعی جب تک عراق میں رہے ان کی فقہ الگ تھی مصر گئے تو فقہ تبدیل ھو گئ وہ نئی فقہ کہلاتی ھے اور عراق والی پرانی فقہ ،، پھر جہاں سے دو دو تین تین شادیوں کا حکم اخذ کیا جا رھا ھے وہاں شادی موضوع نہیں بلکہ غزوہ احد میں شھید ھونے والوں کے یتیم بچوں کی کفالت زیرِ بحث ہے ، جو کئ رکوع تک چلی گئ ہے ، پھر کہا گیا کہ اگر تم ان کی کفالت کرنا شروع کرو اور معاشرتی مسائل پیدا ھوں [ یعنی ان بیواؤں کے بارے میں اسکینڈل بننا شروع ہو جائیں ،کیوں کہ جس کا دل جب چاہے کوئی نہ کوئی تحفہ اٹھائے یتیم کے گھر کی طرف رواں دواں ہو ،کبھی گوشت تو کبھی پھل تو کبھی کپڑے تو ظاہر ہے منافقین کے فتنے اٹھانے کے لئے یہ سنہرا موقع تھا ] تو پھر ان بیواؤں سے شادی ہی کر لو ، دو دو تین تین چار چار اور پھر اگر ان سے شادی کے نتیجے میں تمہارے حقیقی بیوی بچے خوار ہونا شروع ھو جائیں تو بس ایک پر ہی اکتفا کرو اور یتیموں کے مسئلے کا کوئی اور حل ڈھونڈ لو ،، اسی وجہ سے صحابہ کے دل میں خیال آیا کہ چونکہ ہم یہ شادیاں اللہ پاک کی تجویز پر کر رہے ہیں ناں کہ اپنی عیاشی کے لئے تو پھر ہم کو حق مہر معاف ہونا چاہئے ،جس پر اگلی ہی آیت میں حکم دیا گیا کہ حق مہر تو تم کو دینا پڑے گا وہ بخوشی ادا کرو اس شادی کو شادی بنانے کے لئے ـ
یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی کو حج کا حکم دیا جائے اور پھر اس پر عملدرآمد کے طور پر مشورہ دیا جائے کہ اگر اپنی گاڑی نہیں ہے تو دوسروں کے ساتھ دو دو تین تین چار چار سوار ہو جاؤ یا اپنی گاڑی پر دو دو تین تین چار چار سوار کر لو اور حج کرو ،، اور لوگ حج کے حکم کو تو بھول جائیں اور گاڑی پر دو دو تین تین سوار کرنے کو فرض یا سنت ثابت کرنے پر ہی بحث کو مرکوز کر لیں اور ،،زیادہ بیویوں کی ضرورت حضرت آدم علیہ السلام کو زیادہ تھی تا کہ آبادی فوری طور پر بڑھائی جائے نیز ایک ہی ماں کی پہلی دفعہ اور اگلی دفعہ کی اولاد کو کراس میں بیاھنے کی بجائے دو یا چار الگ ماؤں سے ہوتی تو آپس میں بیاھنا زیادہ معقول ھوتا ، وہاں تو اللہ پاک نے گھر بس ایک مرد اور ایک عورت سے شروع فرمایا ،، باقی دوسری تیسری چوتھی مجبوری میں جائز ہے وہ مجبوری یہ ہو کہ پہلی بیوی سے اولاد نہیں ہو رہی کنفرم خامی ہے تو نسل کشی کے لئے دوسری کی جائے یا سیاسی یا معاشرتی مجبوری ہو ـ نبئ کریم ﷺ کی بھی پہلی شادی عائلی شادی تھی باقی سب شادیوں کی وجوہات الگ الگ تھیں ـ جن پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے

سورس


Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Wahiduddin Khan


If you fear that you cannot deal fairly with orphan girls, you may marry women of your choice, two or three or four; but if you fear that you might not be able to treat them with equal fairness, then only one — or [from among] those whom you rightfully possess. That is more likely to keep you from committing an injustice.


Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Mohammad Habib Shakir

May 2, 2017

English Translation, Mohammad Habib Shakir

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Mohammad Habib Shakir


And if you fear that you cannot act equitably towards orphans, then marry such women as seem good to you, two and three and four; but if you fear that you will not do justice (between them), then (marry) only one or what your right hands possess; this is more proper, that you may not deviate from the right course.


Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Muhammad Sarwar

May 2, 2017

English Translation, Muhammad Sarwar

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Muhammad Sarwar


With respect to marrying widows, if you are afraid of not being able to maintain justice with her children, marry another woman of your choice or two or three or four (who have no children). If you cannot maintain equality with more than one wife, marry only one or your slave-girl. This keeps you from acting against justice.


Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Saheeh International

April 28, 2017

English Translation, Saheeh International

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Saheeh International


And if you fear that you will not deal justly with the orphan girls, then marry those that please you of [other] women, two or three or four. But if you fear that you will not be just, then [marry only] one or those your right hand possesses. That is more suitable that you may not incline [to injustice].


Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Hasan al-Fatih Qaribullah and Ahmad Darwish

April 28, 2017

English Translation, Hasan al-Fatih Qaribullah and Ahmad Darwish

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Hasan al-Fatih Qaribullah and Ahmad Darwish


If you fear that you cannot act justly towards the orphans, then marry such women as seem good to you; two, three, four of them. But if you fear that you cannot do justice, then one only, or, those you possess. It is likelier then that you will not be partial.


Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Ali Quli Qarai

April 27, 2017

Ali Quli Qarai, English Translation

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Ali Quli Qarai


If you fear that you may not deal justly with the orphans, then marry [other] women that you like, two, three, or four. But if you fear that you may not treat them fairly, then [marry only] one, or [marry from among] your slave-women. That makes it likelier that you will not be unfair.


Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Mohammed Marmaduke William Pickthall

April 25, 2017

English Translation, Mohammed Marmaduke William Pickthall

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Mohammed Marmaduke William Pickthall


And if ye fear that ye will not deal fairly by the orphans, marry of the women, who seem good to you, two or three or four; and if ye fear that ye cannot do justice (to so many) then one (only) or (the captives) that your right hands possess. Thus it is more likely that ye will not do injustice.


Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

April 12, 2017

English Translation, Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri


And if you fear that you shall not be able to deal justly with the orphan girls, then marry (other) women of your choice, two or three, or four; but if you fear that you shall not be able to deal justly (with them), then only one or (the captives and the servants) that your right hands possess. That is nearer to prevent you from Ta`ulu.


Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Talal Itani

April 12, 2017

English Translation, Talal Itani

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Talal Itani


If you fear you cannot act fairly towards the orphans—then marry the women you like—two, or three, or four. But if you fear you will not be fair, then one, or what you already have. That makes it more likely that you avoid bias.


Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Muhammad Taqi-ud-Din al-Hilali and Muhammad Muhsin Khan

April 11, 2017

English Translation, Muhammad Taqi-ud-Din al-Hilali and Muhammad Muhsin Khan

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Muhammad Taqi-ud-Din al-Hilali and Muhammad Muhsin Khan


And if you fear that you shall not be able to deal justly with the orphan-girls, then marry (other) women of your choice, two or three, or four but if you fear that you shall not be able to deal justly (with them), then only one or (the captives and the slaves) that your right hands possess. That is nearer to prevent you from doing injustice.


Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Abdul Majid Daryabadi

April 11, 2017

Abdul Majid Daryabadi, English Translation

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Abdul Majid Daryabadi


And if ye apprehend that ye may not deal justly with the orphan girls, then marry such as please you, of other Women, by twos and threes or fours, but if ye apprehend that ye shall not act justly, then marry one only, or that which your right hand own that Will be more fit, that ye may swerve not. their


Sura 4 النساء Ayat 3 Translation A. J. Arberry

April 10, 2017

A. J. Arberry, English Translation

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Translation A. J. Arberry


If you fear that you will not act justly towards the orphans, marry such women as seem good to you, two, three, four; but if you fear you will not be equitable, then only one, or what your right hands own; so it is likelier you will not be partial.


Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Abul Ala Maududi

April 10, 2017

Abul Ala Maududi (English), English Translation

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Abul Ala Maududi


If you fear that you might not treat the orphans justly, then marry the women that seem good to you: two, or three, or four. If you fear that you will not be able to treat them justly, then marry (only) one, or marry from among those whom your right hands possess. This will make it more likely that you will avoid injustice.


Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Ahmed Raza Khan

April 10, 2017

Ahmed Raza Khan (English), English Translation

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Ahmed Raza Khan


And if you fear that you will not be just towards orphan girls, marry the women whom you like – two at a time, or three or four; then if you fear that you cannot keep two women equally then marry only one or the bondwomen you own; this is closer to your not doing injustice.


Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Ahmed Ali

April 9, 2017

Ahmed Ali (English), English Translation

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Ahmed Ali


If you fear you cannot be equitable to orphan girls (in your charge, or misuse their persons), then marry women who are lawful for you, two, three, or four; but if you fear you cannot treat so many with equity, marry only one, or a maid or captive. This is better than being iniquitous.


Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Muhammad Hussain Najafi

April 7, 2017

Muhammad Hussain Najafi, Urdu Translation

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Muhammad Hussain Najafi


اور اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ تم یتیموں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکوگے۔ تو جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو دو دو، تین تین، چار چار سے اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ (ان کے ساتھ) عدل نہ کر سکوگے تو پھر ایک ہی (بیوی) کرو۔ یا جو تمہاری ملکیت میں ہوں (ان پر اکتفا کرو) یہ زیادہ قریب ہے اس کے کہ بے انصافی نہ کرو۔ (ایک ہی طرف نہ جھک جاؤ)۔


Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Muhammad Junagarhi

April 6, 2017

Muhammad Junagarhi, Urdu Translation

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Muhammad Junagarhi


اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرکے تم انصاف نہ رکھ سکو گے تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین، چار چار سے، لیکن اگر تمہیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی یہ زیاده قریب ہے، کہ (ایسا کرنے سے ناانصافی اور) ایک طرف جھک پڑنے سے بچ جاؤ


Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Syed Zeeshan Haider Jawadi

April 6, 2017

Syed Zeeshan Haider Jawadi, Urdu Translation

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Syed Zeeshan Haider Jawadi


اور اگر یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کرسکنے کا خطرہ ہے تو جو عورتیں تمہیں پسند ہیں دو. تین. چار ان سے نکاح کرلو اور اگر ان میں بھی انصاف نہ کرسکنے کا خطرہ ہے تو صرف ایک… یا جو کنیزیں تمہارے ہاتھ کی ملکیت ہیں, یہ بات انصاف سے تجاوز نہ کرنے سے قریب تر ہے


Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Tahir ul Qadri

April 4, 2017

Tahir ul Qadri, Urdu Translation

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Tahir ul Qadri


اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں، دو دو اور تین تین اور چار چار (مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے)، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم (زائد بیویوں میں) عدل نہیں کر سکو گے تو صرف ایک ہی عورت سے (نکاح کرو) یا وہ کنیزیں جو (شرعاً) تمہاری ملکیت میں آئی ہوں، یہ بات اس سے قریب تر ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو،


Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Ahmed Ali

April 2, 2017

Ahmed Ali, Urdu Translation

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Ahmed Ali


اور اگر تم یتیم لڑکیوں سے بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہوتوجوعورتیں تمہیں پسند آئیں ان میں سے دو دو تین تین چار چار سے نکاح کر لو اگر تمہیں خطرہ ہو کہ انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی سے نکاح کرو جو لونڈی تمہارے ملک میں ہو وہی سہی یہ طریقہ بے انصافی سے بچنے کے لیے زیادہ قریب ہے


Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Ahmed Raza Khan

April 2, 2017

Ahmed Raza Khan, Urdu Translation

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Ahmed Raza Khan


ا ور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین او ر چار چار پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو


Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Abul A’ala Maududi

March 29, 2017

Abul A'ala Maududi, Urdu Translation

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Translation Abul A’ala Maududi


اور اگر تم یتیموں کے ساتھ بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں اُن میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کرلو لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ اُن کے ساتھ عدل نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو یا اُن عورتوں کو زوجیت میں لاؤ جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں، بے انصافی سے بچنے کے لیے یہ زیادہ قرین صواب ہے


Sura 4 النساء Ayat 3 Fateh Muhammad Jalandhry

March 28, 2017

Fateh Muhammad Jalandhry, Urdu Translation

Comments Off on Sura 4 النساء Ayat 3 Fateh Muhammad Jalandhry


اور اگر تم کو اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارےانصاف نہ کرسکوگے تو ان کے سوا جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح کرلو۔ اور اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ (سب عورتوں سے) یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت (کافی ہے) یا لونڈی جس کے تم مالک ہو۔ اس سے تم بےانصافی سے بچ جاؤ گے