Tag: Sura 29 Ayat 51 Tafseer


Sura 29 العنكبوت Ayat 51 Tafseer Zahid Hussain


کیا انہیں یہ کافی نہیں؟ کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل فرما دی جو ان پر پڑھی جا رہی ہے، اس میں رحمت (بھی) ہے اور نصیحت (بھی) ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان والے ہیں (29/51) یہ وہ آیت ہے جس سے نکالے گئے ایک غلط مفہوم کی بنیاد پر ہم جیسے بہت سے طالب قرآن دھوکہ کھاگئے اور ایک عرصے تک یہ سمجھتے رہے کہ اللہ کی کتاب دین کو بیان کرنے کے لئے کافی ہے ۔ ایک انگلش کا لفظ ہے ٹویسٹ جس کے معنی ہیں موڑدینا، بدل دینا اس کا استعمال وہاں کیا جاتا ہے جب بات کرنے والا اصل بات کو اس طرح بدل دے کہ سننے والے کو اس کا پتہ بھی نہ چلے ۔ اس کی مثال میں اپ کو قران ہی سے دیتا ہوں۔ وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقًا يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُم بِالْكِتَابِ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ الْكِتَابِ وَمَا هُوَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِندِ اللَّـهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِندِ اللَّـهِ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ﴿٧٨﴾ ترجمہ: یقیناًان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو کتاب پڑھتے ہوئے اپنی زبان اس طرح موڑتے ہیں تاکہ تم اسے کتاب ہی کی عبارت خیال کرو حاﻻنکہ دراصل وه کتاب میں سے نہیں، اور یہ کہتے بھی ہیں کہ وه اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے حاﻻنکہ در اصل وه اللہ تعالی کی طرف سے نہیں، وه تو دانستہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں (3/78) یہ وہ لوگ ہیں جو بظاہر تو اپ کے سامنے اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں لیکن اپنی زبان کی ایسی ڈنڈی بیچ میں مارتے ہیں کہ لوگوں کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ جو کچھ بیان ہورہا ہے وہ اللہ کی کتاب میں سے نہیں ہے اور وہ بے چارے دھوکہ کھاجاتے ہیں۔ یہی اول الزکرآیت کے ساتھ کیا گیا اس آیت کا سادہ ترجمہ بھی دیکھ لیجیے تو ہر گز یہ مفہوم سامنے نہیں آتا کہ اللہ کی کتاب دین کو بیان کرنے کے لئے کافی ہے اور اگر اس کا سیاق وسباق دکھ لیا جائے تو پھر اس ٹوئسٹ زدہ مفہوم کی بالکل بھی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ۔ آیت یفکفھم سے پہلے موجود یہ آیت دیکھیے
انہوں نے کہا کہ اس پر کچھ نشانیاں اس کے رب کی طرف سے کیوں نہیں اتاری گئیں ۔ آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں تو سب اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں میں تو صرف کھلم کھلا آگاه کر دینے واﻻ ہوں (29/50) اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جب تک سوال معلوم نہ ہو پتہ نہیں چلتا کہ جو جواب دیا گیا ہے وہ کس طرف اشارہ کررہا ہے یہاں پر پہلے کفار کا سوال دیکھیے کہ وہ معجزات مانگ رہے ہیں اور جواب میں کہا جارہا ہے کہ کیا یہ کافی نہیں کہ ان پر کتاب اتر رہی ہے یعنی اگر انہیں معجزہ ہی درکار ہے تو کیا یہ معجزہ کافی نہیں ۔ جی ہاں یہ ہے اس ایت کا درست مفہوم جس کو ٹوئسٹ کرکے یہ مفہوم بنایا گیا کہ اللہ کی کتاب دین بیان کرنے کے لئے کافی ہے اور اس مفہوم کو بنانے والوں کا مقصد چاہے برا نہ بھی ہو پھر بھی اس نطریے سے دین کے دوسرے حصے کا رد ہوتا چلا گیا۔ دین کا وہ دوسرا حصہ جو علاوہ قرآن رسول اللہ پر وحی ہوا جس کی مدد سے ہم صلواۃ ، زکواۃ ، صوم ، حج وغیرہ ادا کرتے ہیں۔ دیکھیے جب کوئ شخص یہ کہے گا کہ اکیلے قران سے دین پر عمل ہوسکتا ہے تو پھر وہ اپنی اولاد کوکس طرح نماز پر قائل کرے گا پرویز صاحب کے ساتھ بھی یہی ہوا وہ لوگوں سے کہتے رہے کہ اللہ کی کتاب دین کو بیان کرنے کے لئے کافی ہے لہزہ باوجود اس کے کہ وہ خود نماز پڑھتے تھے اپنے پیروکاروں کو نماز پر قائل نہ کرسکے نتیجہ دیکھ لیجیے کہ اب ان کے پیروکاروں کی اکثریت نماز نہیں پڑھتی کیونکہ جو نظریہ وہ پیش کرگئے اس سے یہی رزلٹ نکلنا تھا۔ اس کا تازہ ترین مشاہدہ میں نے یوں دیکھا کہ کچھ دنوں پہلے میں اپنے ایک دوست کے ساتھ ایک ایسی عجیب وغریب مسجد میں گیا جہاں بظاہر قرانی فکر کے چالیس پچاس لوگ جمع ہوئے تھے لیکن وہاں مجلس میں ڈھائ تین بجے تک کوئ نماز کا اہتمام نہ ہوا پھر نہ صرف سب لوگ وہاں سے نماز پڑھے بغیر ہی رخصت ہوئے بلکہ کسی نے نماز کا زکر کرنا تک خیال نہ کیا۔ پھر دوبارہ میں وہاں نہیں گیا بات قران کی ہو مسجد میں ہو اور وہاں صلواۃ نہ ہو یہ عجب انداز مجھے تو ہضم نہ ہوا۔

سورس