Tag: Qari Hanif Dar


Sura 4 النساء Ayat 3 Tafseer Qari Hanif Dar


سید سعد عبداللہ کی بات کا تفصیلی جواب میری پوسٹ میں ہی موجود ہے مگر وہ اس پر غور کرے بغیر ہر جگہ اپنا جواب کاپی پیسٹ کرتے چلے جا رہے ہیں اللہ پاک نے تو کلیئر کٹ اسٹیٹمنٹ دی ہے کہ عدل نہیں کر سکتے تو ایک ہی بیوی پر اکتفا کرو [ فواحدۃً] سے بڑھ کر مزید کلیئر کٹ فیصلہ کیا ھو گا ؟ ،، فان خفتم ان لا تعدلوا سے بھی پہلے وَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى،، موجود ہے جس حکم سے آیت شروع ہوئی ہے کہ اگر تمہیں خدشہ ہو کہ تم یتیموں میں انصاف نہیں کر سکو گے تو ان کی ماؤں سے نکاح کر لو تا کہ وہ تمہارے رشتےدار بن جائیں ، ان کی مائیں تمہاری محرم اور بیٹیاں بھی محرم بن جائیں ،، حکم یتیموں کی کفالت کا دیا گیا ہے، اس لئے کہ یتیموں کے چچا اور تایا جو یتیموں کی کم عمری کی وجہ سے اس مال کے نگران مقرر ہوتے تھے ان سے کہا گیا کہ وہ یتیموں کا مال ٹھیک طور پر ان کو ادا کریں ،اچھی چیز کے بدلے ان کو گھٹیا تبدیل کر کے نہ دیں نیز ان کا مال اپنے مال میں مکس کر کے نہ کھائیں ، یہ بڑے گناہ کا کام ہے پھر فرمایا کہ اگر یتیموں کی کفالت مسائل پیدا کرے تو ان کی ماؤں سے شادی کر لو یعنی بھاوج کو بیوی بنا لو ظاھر ہے یہاں یتیموں کے کفیل مخاطب ہیں جو کہ پورا گاؤں نہیں ہو سکتا مرحوم کے بھائی بند ہی ہو سکتے ہیں ، اگر یہ شادیاں پہلے بیوی بچوں کے لئے مسائل پیدا کریں تو بس ایک بیوی پر اکتفا کرو [ وَآتُوا الْيَتَامَىٰ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا (2) وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا (3) اس وقت اس زمانے کے حساب سے تھا اور موجودہ زمانے میں موجودہ زمانے کے حساب سے ہو گا ،، عرض کیا گیا تھا کہ اس زمانے میں دوسری یا تیسری شادی کے نتائج اس قدر بھیانک نہیں تھے ، بچے ایک کروڑ پتی باپ کے پاس رہیں یا ایک بھیک مانگنے والی ماں کے پاس ، کھانے پینے اور لباس کا فرق ہو گا ،مگر تعلیم اور مستقبل کا کوئی مسئلہ نہیں تھا ، کروڑ پتی باپ کے پاس رہنے والے بچوں نے بھی اونٹ چرانے تھے اور فقیر ماں کے پاس رھنے والوں نے بھی اونٹ ہی چرانے تھے ،مگر اب جو بچے دوسری شادی سے ڈسٹرب ہوں گے وہ بہت پیچھے رہ جائیں گے ، متحد ماں باپ کے پاس رھنے والے نہ صرف تعلیم کے لحاظ سے کسی منزل پہ پہنچ جاتے ہیں بلکہ نفسیاتی طور پر بھی متوازن ہوتے ہیں ، جبکہ گھر میں چخ چخ شروع ہو جائے یا مار کٹائی کا ماحول ہو ، روز مما روٹھ کر میکے چلی جائے اور بچوں کا کھانا پینا ، ہوم ورک اور ذہنی سکون ڈسٹرب ہو جائے تو وہ زیادہ دیر غیرجانبدار نہیں رہ پاتے اور گھر میں خانہ جنگی شروع ہو جاتی ھے جو سرد جنگ سے شروع ہو کر گرم جنگ کا روپ بھی دھار لیتی ہے ،، بچے اس ماحول سے فرار کے لئے نشے کی طرف مائل ہوتے ہیں اور پھر نشے کے لئے چوری چکاری اور دوسرے جرائم کی طرف ،، یہ ہمارے علماء کا کھلا تضاد ہے کہ ایک طرف حضرت عائشہ صدیقہؓ کے اس خدشے کو لے کر کہ ’’ اگر آج رسول اللہ ﷺ ہوتے تو عورتوں کی حالت دیکھ کر عورتوں کو مسجد جانے سے روک دیتے ‘‘ کو بنیاد بنا کر کروڑوں عورتوں کو مسجد جانے سے روک دیتے ہیں ‘‘ جبکہ اللہ نے ان کو مسجد بلایا ھے اور رسول اللہ ﷺ کے دور میں وہ مسجد میں نماز پڑھتی تھیں اور آج بھی پڑھتی ہیں ،،دوسری جانب صرف خدشہ نہیں بلکہ عملی نتائج سامنے ہیں کہ دوسری تیسری شادی کی صورت میں ۹۹ فیصد گھر برباد ہو جاتے ہیں اور بچوں کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے مگر پھر بھی بضد ہیں کہ دوسری صورت ہی افضل ہے ،، آج کا عدل صرف بیویوں تک نہیں بلکہ اولاد تک مطلوب ہے کہ ایک کو انجینئر یا ڈاکٹر بنایا ہے تو دوسری کے بچوں کو بھی برابر کی تعلیم دلانی ہو گی ، یہاں تو ایک کے بچے ہی اعلی تعلیم حاصل کر لیں تو بڑی بات ہے ،، ایف اے ، بی اے آج کوئی تعلیم نہیں ،جبکہ گزرے کل تک پانچ کلاس اور آٹھ کلاس پڑھے ٹیچر ھوا کرتے تھے اور بڑے فخر سے بتایا جاتا تھا کہ بچی پرانے زمانے کی ۸ کلاس پاس ہے ،، مقصد معاشرے کو بھکاری دینا نہیں باعزت طور کما کر کھانے والے دینا ہے ، اس زمانے میں اونٹ چرانے والے کو بھی جھٹ رشتہ مل جاتا تھا اب لوگ اسٹیٹس دیکھ کر رشتہ دیتے ہیں ،، بیٹیاں اسی وجہ سے ہی تو بیٹھی ہیں ، ہر ۲۰ سال والے کو دینا شروع کر دیں اس کا قد دیکھ کر تو بچیاں گھر میں بیٹھی ہی کیوں رہیں اور دوسری تیسری کا سوال ہی پیدا کیوں ہو ؟ لوگ رشتے داروں کی بجائے باہر بھاگتے ہیں تو کچھ لوگ برداری کے سوا باہر رشتہ کرنا جرم اور عیب سمجھتے ہیں ـ بچیوں کے رشتے نہ ہونے کی اور بہت ساری وجوہات ہیں ان کو ڈسکس کرنے کی ضرورت ہے کہ اللہ توکل رشتے کیئے جائیں ہر گھرانا اعلی تعلیم یافتہ داماد نہ ڈھونڈے ،، اور لڑکے والے بھی آسمان سے نیچے اتریں اور مالدار گھرانوں کی تلاش ترک کر کے اپنے غریب عزیز و اقارب کے یہاں سے رشتے کریں ـ کیا یہ اللہ پاک کے حکم کے ۱۸۰ ڈگری مخالف شرط نہیں ہے کہ ہماری لڑکی سے نکاح کرنے سے پہلے ،، پہلی والی کو طلاق دو ؟ اللہ اس پہلی کا تحفظ فرما رہا ھے جبکہ تم اس کا کانٹا ہی نکال رہے ہو پھر بھی دوسری شادی کو اللہ کا حکم فرما رہے ہو ؟ میں نے کئ رشتے ایسے دیکھے کہ لڑکا چاہتا ھے کہ میری پہلی بیوی ذرا سرکش ہو گئ ہے مگر اس سے میرے بچے ہیں ، جن کو الگ مکان لے کر دے رکھا ہے ،بچے اسکول پک اینڈ ڈراپ کر دیتا ھوں اور اخراجات بھی دے رہا ہوں ـ میں چاہتا ھوں کہ اپنے لئے دوسری شادی کر لوں ،، کسی جگہ بات چلائی تو لڑکی نے ہی جھٹ سے کہہ دیا کہ جب تک پہلی والی کو طلاق نہ دے دے میں اس سے شادی نہیں کرونگی ، اس لئے کہ شاید کل وہ اس کے ساتھ پھر راضی ہو جائے ،، زیادہ تر دوسری بیویاں پہلی کا کانٹا کسی نہ کسی طریقے سے نکال کر ہی دم لیتی ہیں ـ

قانون سازی یعنی شریعت میں عرف یا رواج ایک اصول ھے ، اسی لئے امام شافعی جب تک عراق میں رہے ان کی فقہ الگ تھی مصر گئے تو فقہ تبدیل ھو گئ وہ نئی فقہ کہلاتی ھے اور عراق والی پرانی فقہ ،، پھر جہاں سے دو دو تین تین شادیوں کا حکم اخذ کیا جا رھا ھے وہاں شادی موضوع نہیں بلکہ غزوہ احد میں شھید ھونے والوں کے یتیم بچوں کی کفالت زیرِ بحث ہے ، جو کئ رکوع تک چلی گئ ہے ، پھر کہا گیا کہ اگر تم ان کی کفالت کرنا شروع کرو اور معاشرتی مسائل پیدا ھوں [ یعنی ان بیواؤں کے بارے میں اسکینڈل بننا شروع ہو جائیں ،کیوں کہ جس کا دل جب چاہے کوئی نہ کوئی تحفہ اٹھائے یتیم کے گھر کی طرف رواں دواں ہو ،کبھی گوشت تو کبھی پھل تو کبھی کپڑے تو ظاہر ہے منافقین کے فتنے اٹھانے کے لئے یہ سنہرا موقع تھا ] تو پھر ان بیواؤں سے شادی ہی کر لو ، دو دو تین تین چار چار اور پھر اگر ان سے شادی کے نتیجے میں تمہارے حقیقی بیوی بچے خوار ہونا شروع ھو جائیں تو بس ایک پر ہی اکتفا کرو اور یتیموں کے مسئلے کا کوئی اور حل ڈھونڈ لو ،، اسی وجہ سے صحابہ کے دل میں خیال آیا کہ چونکہ ہم یہ شادیاں اللہ پاک کی تجویز پر کر رہے ہیں ناں کہ اپنی عیاشی کے لئے تو پھر ہم کو حق مہر معاف ہونا چاہئے ،جس پر اگلی ہی آیت میں حکم دیا گیا کہ حق مہر تو تم کو دینا پڑے گا وہ بخوشی ادا کرو اس شادی کو شادی بنانے کے لئے ـ
یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی کو حج کا حکم دیا جائے اور پھر اس پر عملدرآمد کے طور پر مشورہ دیا جائے کہ اگر اپنی گاڑی نہیں ہے تو دوسروں کے ساتھ دو دو تین تین چار چار سوار ہو جاؤ یا اپنی گاڑی پر دو دو تین تین چار چار سوار کر لو اور حج کرو ،، اور لوگ حج کے حکم کو تو بھول جائیں اور گاڑی پر دو دو تین تین سوار کرنے کو فرض یا سنت ثابت کرنے پر ہی بحث کو مرکوز کر لیں اور ،،زیادہ بیویوں کی ضرورت حضرت آدم علیہ السلام کو زیادہ تھی تا کہ آبادی فوری طور پر بڑھائی جائے نیز ایک ہی ماں کی پہلی دفعہ اور اگلی دفعہ کی اولاد کو کراس میں بیاھنے کی بجائے دو یا چار الگ ماؤں سے ہوتی تو آپس میں بیاھنا زیادہ معقول ھوتا ، وہاں تو اللہ پاک نے گھر بس ایک مرد اور ایک عورت سے شروع فرمایا ،، باقی دوسری تیسری چوتھی مجبوری میں جائز ہے وہ مجبوری یہ ہو کہ پہلی بیوی سے اولاد نہیں ہو رہی کنفرم خامی ہے تو نسل کشی کے لئے دوسری کی جائے یا سیاسی یا معاشرتی مجبوری ہو ـ نبئ کریم ﷺ کی بھی پہلی شادی عائلی شادی تھی باقی سب شادیوں کی وجوہات الگ الگ تھیں ـ جن پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے

سورس


Sura 4 النساء Ayat 159 Tafseer Qari Hanif Dar


و ان من اھل الکتاب الا لیومنن بہ قبل موتہ !

( دورِ مصطفی ﷺ کے )ان اھل کتاب میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو مرنے سے پہلے ان [محمد ﷺ] پر ایمان نہ لے آتا ھو اور یہ[ ﷺ ] قیامت کے دن ان پر گواہ ھونگے ـ النساء ۱۵۹

بات شروع نبئ کریم ﷺ سے ہی ھوئی ھے ،شروع رکوع دیکھئے یسئلک اھل الکتاب ان تنزل علیہم کتابا من السماء ،، یہ اھل کتاب آپ سے سوال کرتے ہیں کہ آسمان سے لکھی ھوئی کتاب لے آیئے ،، انہوں نے موسی علیہ السلام سے اس سے بھی بڑا سوال کیا تھا کہ اللہ ھم کو آمنے سامنے دکھا دو ،، فقد سالوا موسی اکبر من ذالک فقالوا ارنا اللہ جھرۃ ، اگر اس ’’ بہ ‘‘سے مراد عیسی علیہ السلام ہیں تو ان کی آمد پر ان اھل کتاب کو بھی دوبارہ زندہ کرنا چاہئے تھا تا کہ وہ ان پر ایمان لاتے ،، بعد والے تو حضرت عیسی علیہ السلام کے مخاطب ھی نہیں ہیں ،،

کیا اھل کتاب کا عیسی علیہ السلام پر ایمان لانا ان کے مسلمان ھونے کے لئے کافی ہے ؟ تو پھر اب عیسائیوں کے اس فرقے کے مسلمان ھونے میں کیا شک ھے جو ان کو خدا کا بیٹا نہیں سمجھتے ؟

نبئ کریم ﷺ کی بعثت کے بعد اب اور کوئی رسول بطور شاھد نہیں ھو سکتا ،، لیکون الرسول شھیداً علیکم و تکونوا شھداء علی الناس ،، کو منسوخ کرنا پڑے گا ـ
ھمیشہ موضوع کو لیا جاتا ھے اور ھر مثال اسی سے متعلق ھوتی ہے ،، اس کے فوری بعد ، انا اوحینا الیک والی آیت میں عیسی علیہ السلام کا ذکر ماضی کے رسولوں میں کر دیا گیا ھے ، مستقبل کے لئے کوئی گنجائش وھاں پیدا نہیں کی گئ ،، کہنا چاہئے تھا کہ ابھی تو عیسی پر آپ کے بعد بھی وحی کریں گے  !

إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَىٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ ۚ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا (163) وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا (164) رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (165)

سورس