Author: ameen


Sura 4 النساء Ayat 59 Tafseer Muhammad Ameen


سورۃ النساء آیت 58 اور 59

محمد امین اکبر

ایک پوسٹ پر سورۃ النساء کی آیت 59 پر اپنا موقف پیش کرنے کو کہا گیا ۔ جب اسے رف لکھنے لگا تو  بڑھ کرنوٹ کی شکل ہی اختیار کر گیا۔ اس لیے سوچا کہ اتنی محنت کو کمنٹ میں ہی پوسٹ نہ کروں  بلکہ الگ سے  بھی البم میں فوٹو کی شکل میں مستقبل کے ریفرنس کے  لیے رکھوں۔ 4:59 پر یہ تمام میری ذاتی رائے ہیں۔

ایک محترم نے 4:59 کے جس طرح حصے کیے ہیں اسی طرح اسے دیکھتے ہیں۔                                                                              

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ (پہلہ حصہ)

(اے ایمان والو اللہ کی اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے بیچ موجود اولی الامر کی) 

آیت کے مخاطب اہل ایمان ہیں۔اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور کے لوگ بھی آ گئے اور اُن کے بعد ایمان داخل ہونے والے اور بعد کے زمانوں کے اہل ایمان بھی۔ وہ اہل ایمان بھی جو کسی اسلامی ریاست میں  رہتے ہیں اور وہ بھی کو کسی کافر ملک میں رہتے ہیں۔ یہاں سب ہی کو مخاطب کیا جا رہا ہے۔اب دیکھتے ہیں کہ آیت کے اس حصے میں مختلف طرح کے اہل ایمان کیسے عمل کریں گے ۔

اسلامی حکومت میں رہنے والے:

اسلامی حکومت کی اطاعت تو ویسے ہی ہر مسلمان پر فرض ہے۔ جب اسلامی حکومت قائم ہو گئ اور کسی نے اُس کی اطاعت نہ کی تو اس کو اطاعت کرانے کے لیے زبردستی کا اختیار ہے۔ویسے بھی کسی بھی طرز حکومت میں حکومت کی بات نہ ماننا بغاوت ہے۔ حکومت اپنی رٹ زبردستی قائم کر سکتی ہے۔

آگے أُولِي الْأَمْرِ سے کیا مراد ہے؟ اس سے مراد کوئی ایک ولی نہیں بلکہ بہت سے ولی ہے۔  سپاہی کے لیے کیپٹن ولی، کیپٹن کے لیے میجر اور میجر کے لیے کرنل سے ولی اور پھر ولیوں میں شمار ہونگے۔ اس لیے یہاں ولی کی جگہ جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ اگر 4:59 سے پچھلی آیت دیکھیں تو پتہ چل جائے گا کہ اولیا کسے کہتے ہیں۔ اس سے پچھلی آیت میں  انہی اولیا کو مخاطب کیا گیا ہے۔

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ۚ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا [٤:٥٨]

(خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیا کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو خدا تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے بےشک خدا سنتا اور دیکھتا ہے)

اس آیت میں خدا حکم دیتا ہے۔ کس کو حکم دے رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ۔ کیوں کہ  پہلے انہیں ہی مخاطب کیا گیا ہے۔ اس کے بعد مخاطب ایسے تمام لوگ ہیں جو کسی بھی بات کر فیصلہ کرنے پر دور رسالت نبوی اور بعد میں مامور ہوئے ہیں۔ ان کو اللہ نصیحت کر رہا ہے کہ فیصلہ انصاف سے کرو۔کس کس بات کا فیصلہ ۔ ہر بات کا فیصلہ۔ یہاں امانتوں کے لین دین کے حوالے سے بات ہو رہی ہے کہ امانتیں اُن کے مالکوں تک پہنچا دو۔ اس کے بعد اگر جھگڑا ہو جائے کہ اس نے امانت میں خیانت کی ہے یا نہیں تو جس شخص نے فیصلہ کرنا ہے وہ انصاف کے ساتھ کرے۔اگر وہ دل میں انصاف کرنے کی کوشش کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے انصاف کی توفیق دے گا۔ اس کی مدد فرمائے گا۔اللہ سنتا اور دیکھتا ہے سے مراد انصاف کرنے والے ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہیں۔

اس کے بعد آیت 59 میں مخاطب اہل ایمان ہو گئے۔اب انہیں اللہ کی اطاعت کا حکم دیا جا رہا ہے ، کس بات کی اطاعت کا؟ کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات مانو۔ ایک حکم کا ذکر پچھلی آیت میں مثال کے طور ہو گیا یعنی امانتیں واپس کر دینے کا۔ یعنی جو جو احکامات اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان کیے ہیں اہل ایمان سب کومانو، چاہے حکومت اسلامی ہو یا نہیں۔

اس کے بعد کہا گیا کہ رسول کی اطاعت کرو اور أُولِي الْأَمْرِ کی۔ رسول کی اطاعت  تو رسول کے زمانے میں ہو گئ اور أُولِي الْأَمْرِ کی اطاعت ہر زمانے کے لیے ہیں۔ رسول کی اطاعت اسی زمانے میں ہونے کے ثبوت کے لیے 4:59 سے اگلی آیات دیکھیں۔ أُولِي الْأَمْرِ کی اطاعت ، تو  ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نامزدکیا اور بعد کے آنے والے تمام جج بھی اس میں شامل ہیں۔ کیوں اللہ تعالیٰ اس سے پہلی آیت میں اپنا حکم سب کو دے رہا ہے۔

فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ : (دوسرا حصہ ) 

(پس اگر کسی معاملہ میں تمہارے بیچ تنازعہ پیدا ہو جائے تو ( “ان” شرطیہ ہے جس کا اطلاق آج کے قرآن پڑھنے والے پر بھی ہو گا ) غور طلب

بالکل ٹھیک ہے جناب، اس آیت کا ترجمہ وہی رہنے دیتے ہیں جو محترم دوست نے کیا ہے۔ اس آیت کر تعلق ہر وقت کے لیے ہے۔ اب تنازعہ کی صورت کیا ہو سکتی ہے۔ اوپر کی آیت میں دیکھ لیں۔ امانت کے حوالے دے دیکھ لیں، ایک کہے کہ امانت دے دی ہے ، دوسرا کہیں نہیں دی۔اسی طرح کسی بھی مسئلے پر تنازعہ پیدا ہو جاتا ہے تو ہمیں  حکم دیا جا رہا ہے کہ عدالتوں کا رخ کریں۔یاد رہے کہ حاکموں یا  أُولِي الْأَمْرِ کے پاس اس صورت میں ہی جانا ہے جب واقعی تنازعہ ہو جائے ناحق عدالت میں لے جانا منع ہے۔

وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ [٢:١٨٨]

(اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناروا طریقہ سے کھاؤ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمہیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے )

فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ (تیسرا حصہ)

(پس لوٹو اسے (ہ کی ضمیر متنازعہ فیہ معاملہ کی طرف ہے) لیکر اللہ اور رسول کی طرف اگر تم اللہ اور یوم الآخرت پر ایمان رکھتے ہو)

جی ہاں اسی معاملے کی بات ہو رہی ہے۔جس معاملے میں تنازعہ پیدا ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹانا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تنازعہ کس قسم کا ہو گا۔عام سیدھا سادا معاملہ ہو تو تنازعے کی کیا ضرورت؟ گواہ بلاؤ، ثبوت دیکھو اور جو قصور وار ہو اسے سزا دی جائے۔ یہ تنازعہ خاص قسم کا ہے۔ اس تنازعے میں  نہ تو کوئی گواہ ہے نہ ثبوت۔دونوں ہی اپنی جگہ خود کو سچا سمجھتے ہوں۔ أُولِي الْأَمْرِ کے لیے فیصلے کی کوئی صورت نہ  تو اس تنازعے کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانے کا کہا جا رہا ہے۔رسول کی طرف لوٹانے کا مطلب یہ ہے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں یہ تنازعہ ہوا ہو اور معاملہ کسی صاحب عدل کے پاس ہو تو وہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یعنی بڑی عدالت کی طرف ریفر کر دے۔آج کے دور میں بھی معاملہ کا چھوٹی سے بڑی عدالت میں جائے گا۔ایک جج کی بجائے دو ججوں کی عدالت میں جائے گا۔اگر پھر بھی فیصلے کی کوئی صورت نہ نکلے تو اس فیصلے کو اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا۔ اگر جج یا أُولِي الْأَمْرِکمزور شہادت یا شک کی بنا پر کسی ایک فریق کے حق میں فیصلہ کر دے تو بھی اُن کی بات ماننی چاہیے اور معاملہ اللہ کی طرف لوٹا دینا چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹانا کیا ہے؟ قرآن کریم میں دیکھتے ہیں کہ کیا کوئی معاملہ ایسا ہے جس کے متعلق ہم کہہ سکیں کہ یہ اللہ کی طرف لوٹانے کی مثال ہے۔ سورۃ نور کی ابتدائی آیات سے ہم معاملہ اللہ کی طرف لوٹانے کی مثال سمجھ سکتے ہیں۔

وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ [٢٤:٦]

(اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے اپنے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو اُن میں سے ایک شخص کی شہادت (یہ ہے کہ وہ) چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ (اپنے الزام میں) سچا ہے)

وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِن كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ [٢٤:٧]

(اور پانچویں بار کہے کہ اُس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ (اپنے الزام میں) جھوٹا ہو )

وَيَدْرَأُ عَنْهَا الْعَذَابَ أَن تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ [٢٤:٨]

(اور عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر شہادت دے کہ یہ شخص (اپنے الزام میں) جھوٹا ہے )

وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِن كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ [٢٤:٩]

(اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اُس بندی پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر وہ (اپنے الزام میں) سچا ہو )

اس کے علاوہ

فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ [٣:٦١]

(یہ علم آ جانے کے بعد اب کوئی اس معاملہ میں تم سے جھگڑا کرے تو اے محمدؐ! اس سے کہو، “آؤ ہم اور تم خود بھی آ جائیں اور اپنے اپنے بال بچوں کو بھی لے آئیں اور خد ا سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اُس پر خدا کی لعنت ہو”)

اس آیت میں حضرت عیسیٰ سے متعلق قرآن میں بتا دیا گیا ہے۔ اس باوجود اختلاف ہونے کی صورت میں معاملے کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹایا جا رہا ہے۔

4:59 میں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان کا ذکر ہے اس کا  مطلب ہے کہ جس چیز کا فیصلہ دنیا میں نہ ہو سکا اس کا اللہ تعالیٰ قیامت کے روز فیصلہ کرے گا۔ امانت وغیرہ اور اس طرح کے دوسرے مسائل میں اس طرح کی صورت حال کیوں پیدا ہو جاتی ہے کہ اُن کا فیصلہ نہ ہو سکے اور معاملہ کو آخرت کی طرف لوٹانا پڑے۔ اس کی وجہ اللہ تعالیٰ کے ایک اور حکم کی اطاعت نہ کرنا ہے۔وہ حکم جس کی اطاعت نہیں کی جاتی وہ سورۃ البقرۃ کی آیت 282 میں ہے کہ

(اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب کسی مقرر مدت کے لیے تم آپس میں قرض کا لین دین کرو، تو اسے لکھ لیا کرو) [٢:٢٨٢]

 اگر فریقین اپنے پاس اس طرح کے ثبوت وغیرہ رکھیں تو  أُولِي الْأَمْرِ کو فیصلے کرنے میں کسی قسم کی دشواری نہ ہو گی۔

سوال:آج کے دور میں اگر أُولِي الْأَمْرِ کے ساتھ کوئی تنازعہ ہوتا ہے میں اس معاملہ کو لیکر کس کے پاس جاؤں؟

جواب: آج کل آپ کے أُولِي الْأَمْرِنے جو سسٹم بنایا ہوا ہے آپ کو اس کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔ کسی ادارے میں تنازعہ ہو جائے تو اس کے محتسب موجود ہیں۔ کسی عدالت کے فیصلے پر اعتراض (تنازعہ) ہے تو اس سے بڑی عدالتیں موجود ہیںَ ۔ دنیاوی أُولِي الْأَمْرِ میں سپریم کورٹ  سب سے بڑی عدالت ہے۔ اس کے فیصلے سے بھی تنازعہ حل نہیں ہوتا تو معاملہ کو اللہ پر ہی چھوڑ دینا بہتر ہے۔ اگر عدالتیں واضح ثبوتوں اور شہادتوں کے بعد آپ کے خلاف فیصلہ دے رہی ہے تو آپ کو اسے مان لینا چاہیے کہ  أُولِي الْأَمْرِ کی اطاعت کا حکم اسی آیت 4:59 میں ہے۔

ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا 4:59 (چوتھا حصہ )

یہ (حکومتی تشکیل کی ) بہترین توضیح و تشریح ہے۔(یہی ایک صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے۔)

درست طریقہ اس لحاظ سے ہے کہ قیامت پر یقین کی وجہ سے اصل اجر وہاں ملے گا۔مزید مقدمے بازی نہیں ہو گی۔

اس آیت کا تعلق اس وقت سے ہے جب معاملے کا فیصلے کرنے کے لیے واضح ثبوت نہ، ہو سکتا ہے صاحب عدل صلح کا کہہ دے تو اس کی بات ماننی چاہیے۔

غیر اسلامی ممالک میں 4:59 کا اطلاق

ایسے مسلمان جو غیر اسلامی  ممالک میں  رہتے ہیں وہ اس آیت 4:59 پر اس طرح سے عمل کریں گے کہ  اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت میں قرآن کریم کے احکامات پر عمل کریں گے۔ أُولِي الْأَمْرِ کی اطاعت کے ضمن میں وہاں کے جج اور قانون کا احترام کریں گے اور ان کے فیصلے کو قرآن  کے احکامات کی روشنی میں تسلیم کریں گے۔کوئی ایسا حکم نہیں مانیں گے جو سراسر کفر ہو جیسے کہ قرآن کریم میں ہے کہ

وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا ۖ وَإِن جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۚ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ [٢٩:٨]

(ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے لیکن اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسے (معبُود) کو شریک ٹھیرائے جسے تو (میرے شریک کی حیثیت سے) نہیں جانتا تو ان کی اطاعت نہ کر میری ہی طرف تم سب کو پلٹ کر آنا ہے، پھر میں تم کو بتا دوں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو ۔)

اسی طرح ایسے وہ احکام جو شرک کا باعث بنتے ہو اُن احکام کی پابندی لازم نہیں۔ لیکن اگر زبردستی کی جائے تو اللہ کی زمین بہت بڑی ہے کفر کی بجائے ہجرت فرض ہے کہ کفر کا کوئی بہانہ قبول نہ ہو گا۔

إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنتُمْ ۖ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ ۚ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا ۚ فَأُولَٰئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا [٤:٩٧]

(جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے اُن کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور و مجبور تھے فرشتوں نے کہا، کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے )

غیر اسلامی ممالک میں کسی حد تک اپنا ایمان چھپایا جا سکتا ہے  جیسا کہ اس آیت میں ہے۔

وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ إِنَّ الْكَافِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِينًا [٤:١٠١]

(اور جب تم لوگ سفر کے لیے نکلو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر نماز میں اختصار کر دو (خصوصاً) جبکہ تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے کیونکہ وہ کھلم کھلا تمہاری دشمنی پر تلے ہوئے ہیں )

 مگر کفر پر عمل نہیں کرنا۔ عبادات اس حد تک ترک کی جاسکتی ہیں کہ  سب کے سامنے ادا نہ کی جائیں۔ سکارف وغیرہ کی پابندی ہو تو اس پابندی پر عمل کرنے پر بھی کوئی حرج نہیں۔ ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے دیکھنا چاہیے کہ اس کے کرنے سے کفر تو نہیں ہو جائے۔ کفر نہ ہو تو کرنا جائز ہوگا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


Sura 4 النساء Ayat 58 Tafseer Muhammad Ameen


سورۃ النساء آیت 58 اور 59

محمد امین اکبر

ایک پوسٹ پر سورۃ النساء کی آیت 59 پر اپنا موقف پیش کرنے کو کہا گیا ۔ جب اسے رف لکھنے لگا تو  بڑھ کرنوٹ کی شکل ہی اختیار کر گیا۔ اس لیے سوچا کہ اتنی محنت کو کمنٹ میں ہی پوسٹ نہ کروں  بلکہ الگ سے  بھی البم میں فوٹو کی شکل میں مستقبل کے ریفرنس کے  لیے رکھوں۔ 4:59 پر یہ تمام میری ذاتی رائے ہیں۔

ایک محترم نے 4:59 کے جس طرح حصے کیے ہیں اسی طرح اسے دیکھتے ہیں۔                                                                              

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ (پہلہ حصہ)

(اے ایمان والو اللہ کی اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے بیچ موجود اولی الامر کی) 

آیت کے مخاطب اہل ایمان ہیں۔اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور کے لوگ بھی آ گئے اور اُن کے بعد ایمان داخل ہونے والے اور بعد کے زمانوں کے اہل ایمان بھی۔ وہ اہل ایمان بھی جو کسی اسلامی ریاست میں  رہتے ہیں اور وہ بھی کو کسی کافر ملک میں رہتے ہیں۔ یہاں سب ہی کو مخاطب کیا جا رہا ہے۔اب دیکھتے ہیں کہ آیت کے اس حصے میں مختلف طرح کے اہل ایمان کیسے عمل کریں گے ۔

اسلامی حکومت میں رہنے والے:

اسلامی حکومت کی اطاعت تو ویسے ہی ہر مسلمان پر فرض ہے۔ جب اسلامی حکومت قائم ہو گئ اور کسی نے اُس کی اطاعت نہ کی تو اس کو اطاعت کرانے کے لیے زبردستی کا اختیار ہے۔ویسے بھی کسی بھی طرز حکومت میں حکومت کی بات نہ ماننا بغاوت ہے۔ حکومت اپنی رٹ زبردستی قائم کر سکتی ہے۔

آگے أُولِي الْأَمْرِ سے کیا مراد ہے؟ اس سے مراد کوئی ایک ولی نہیں بلکہ بہت سے ولی ہے۔  سپاہی کے لیے کیپٹن ولی، کیپٹن کے لیے میجر اور میجر کے لیے کرنل سے ولی اور پھر ولیوں میں شمار ہونگے۔ اس لیے یہاں ولی کی جگہ جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ اگر 4:59 سے پچھلی آیت دیکھیں تو پتہ چل جائے گا کہ اولیا کسے کہتے ہیں۔ اس سے پچھلی آیت میں  انہی اولیا کو مخاطب کیا گیا ہے۔

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ۚ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا [٤:٥٨]

(خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیا کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو خدا تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے بےشک خدا سنتا اور دیکھتا ہے)

اس آیت میں خدا حکم دیتا ہے۔ کس کو حکم دے رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ۔ کیوں کہ  پہلے انہیں ہی مخاطب کیا گیا ہے۔ اس کے بعد مخاطب ایسے تمام لوگ ہیں جو کسی بھی بات کر فیصلہ کرنے پر دور رسالت نبوی اور بعد میں مامور ہوئے ہیں۔ ان کو اللہ نصیحت کر رہا ہے کہ فیصلہ انصاف سے کرو۔کس کس بات کا فیصلہ ۔ ہر بات کا فیصلہ۔ یہاں امانتوں کے لین دین کے حوالے سے بات ہو رہی ہے کہ امانتیں اُن کے مالکوں تک پہنچا دو۔ اس کے بعد اگر جھگڑا ہو جائے کہ اس نے امانت میں خیانت کی ہے یا نہیں تو جس شخص نے فیصلہ کرنا ہے وہ انصاف کے ساتھ کرے۔اگر وہ دل میں انصاف کرنے کی کوشش کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے انصاف کی توفیق دے گا۔ اس کی مدد فرمائے گا۔اللہ سنتا اور دیکھتا ہے سے مراد انصاف کرنے والے ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہیں۔

اس کے بعد آیت 59 میں مخاطب اہل ایمان ہو گئے۔اب انہیں اللہ کی اطاعت کا حکم دیا جا رہا ہے ، کس بات کی اطاعت کا؟ کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات مانو۔ ایک حکم کا ذکر پچھلی آیت میں مثال کے طور ہو گیا یعنی امانتیں واپس کر دینے کا۔ یعنی جو جو احکامات اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان کیے ہیں اہل ایمان سب کومانو، چاہے حکومت اسلامی ہو یا نہیں۔

اس کے بعد کہا گیا کہ رسول کی اطاعت کرو اور أُولِي الْأَمْرِ کی۔ رسول کی اطاعت  تو رسول کے زمانے میں ہو گئ اور أُولِي الْأَمْرِ کی اطاعت ہر زمانے کے لیے ہیں۔ رسول کی اطاعت اسی زمانے میں ہونے کے ثبوت کے لیے 4:59 سے اگلی آیات دیکھیں۔ أُولِي الْأَمْرِ کی اطاعت ، تو  ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نامزدکیا اور بعد کے آنے والے تمام جج بھی اس میں شامل ہیں۔ کیوں اللہ تعالیٰ اس سے پہلی آیت میں اپنا حکم سب کو دے رہا ہے۔

فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ : (دوسرا حصہ ) 

(پس اگر کسی معاملہ میں تمہارے بیچ تنازعہ پیدا ہو جائے تو ( “ان” شرطیہ ہے جس کا اطلاق آج کے قرآن پڑھنے والے پر بھی ہو گا ) غور طلب

بالکل ٹھیک ہے جناب، اس آیت کا ترجمہ وہی رہنے دیتے ہیں جو محترم دوست نے کیا ہے۔ اس آیت کر تعلق ہر وقت کے لیے ہے۔ اب تنازعہ کی صورت کیا ہو سکتی ہے۔ اوپر کی آیت میں دیکھ لیں۔ امانت کے حوالے دے دیکھ لیں، ایک کہے کہ امانت دے دی ہے ، دوسرا کہیں نہیں دی۔اسی طرح کسی بھی مسئلے پر تنازعہ پیدا ہو جاتا ہے تو ہمیں  حکم دیا جا رہا ہے کہ عدالتوں کا رخ کریں۔یاد رہے کہ حاکموں یا  أُولِي الْأَمْرِ کے پاس اس صورت میں ہی جانا ہے جب واقعی تنازعہ ہو جائے ناحق عدالت میں لے جانا منع ہے۔

وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ [٢:١٨٨]

(اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناروا طریقہ سے کھاؤ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمہیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے )

فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ (تیسرا حصہ)

(پس لوٹو اسے (ہ کی ضمیر متنازعہ فیہ معاملہ کی طرف ہے) لیکر اللہ اور رسول کی طرف اگر تم اللہ اور یوم الآخرت پر ایمان رکھتے ہو)

جی ہاں اسی معاملے کی بات ہو رہی ہے۔جس معاملے میں تنازعہ پیدا ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹانا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تنازعہ کس قسم کا ہو گا۔عام سیدھا سادا معاملہ ہو تو تنازعے کی کیا ضرورت؟ گواہ بلاؤ، ثبوت دیکھو اور جو قصور وار ہو اسے سزا دی جائے۔ یہ تنازعہ خاص قسم کا ہے۔ اس تنازعے میں  نہ تو کوئی گواہ ہے نہ ثبوت۔دونوں ہی اپنی جگہ خود کو سچا سمجھتے ہوں۔ أُولِي الْأَمْرِ کے لیے فیصلے کی کوئی صورت نہ  تو اس تنازعے کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانے کا کہا جا رہا ہے۔رسول کی طرف لوٹانے کا مطلب یہ ہے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں یہ تنازعہ ہوا ہو اور معاملہ کسی صاحب عدل کے پاس ہو تو وہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یعنی بڑی عدالت کی طرف ریفر کر دے۔آج کے دور میں بھی معاملہ کا چھوٹی سے بڑی عدالت میں جائے گا۔ایک جج کی بجائے دو ججوں کی عدالت میں جائے گا۔اگر پھر بھی فیصلے کی کوئی صورت نہ نکلے تو اس فیصلے کو اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا۔ اگر جج یا أُولِي الْأَمْرِکمزور شہادت یا شک کی بنا پر کسی ایک فریق کے حق میں فیصلہ کر دے تو بھی اُن کی بات ماننی چاہیے اور معاملہ اللہ کی طرف لوٹا دینا چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹانا کیا ہے؟ قرآن کریم میں دیکھتے ہیں کہ کیا کوئی معاملہ ایسا ہے جس کے متعلق ہم کہہ سکیں کہ یہ اللہ کی طرف لوٹانے کی مثال ہے۔ سورۃ نور کی ابتدائی آیات سے ہم معاملہ اللہ کی طرف لوٹانے کی مثال سمجھ سکتے ہیں۔

وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ [٢٤:٦]

(اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے اپنے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو اُن میں سے ایک شخص کی شہادت (یہ ہے کہ وہ) چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ (اپنے الزام میں) سچا ہے)

وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِن كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ [٢٤:٧]

(اور پانچویں بار کہے کہ اُس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ (اپنے الزام میں) جھوٹا ہو )

وَيَدْرَأُ عَنْهَا الْعَذَابَ أَن تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ [٢٤:٨]

(اور عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر شہادت دے کہ یہ شخص (اپنے الزام میں) جھوٹا ہے )

وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِن كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ [٢٤:٩]

(اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اُس بندی پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر وہ (اپنے الزام میں) سچا ہو )

اس کے علاوہ

فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ [٣:٦١]

(یہ علم آ جانے کے بعد اب کوئی اس معاملہ میں تم سے جھگڑا کرے تو اے محمدؐ! اس سے کہو، “آؤ ہم اور تم خود بھی آ جائیں اور اپنے اپنے بال بچوں کو بھی لے آئیں اور خد ا سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اُس پر خدا کی لعنت ہو”)

اس آیت میں حضرت عیسیٰ سے متعلق قرآن میں بتا دیا گیا ہے۔ اس باوجود اختلاف ہونے کی صورت میں معاملے کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹایا جا رہا ہے۔

4:59 میں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان کا ذکر ہے اس کا  مطلب ہے کہ جس چیز کا فیصلہ دنیا میں نہ ہو سکا اس کا اللہ تعالیٰ قیامت کے روز فیصلہ کرے گا۔ امانت وغیرہ اور اس طرح کے دوسرے مسائل میں اس طرح کی صورت حال کیوں پیدا ہو جاتی ہے کہ اُن کا فیصلہ نہ ہو سکے اور معاملہ کو آخرت کی طرف لوٹانا پڑے۔ اس کی وجہ اللہ تعالیٰ کے ایک اور حکم کی اطاعت نہ کرنا ہے۔وہ حکم جس کی اطاعت نہیں کی جاتی وہ سورۃ البقرۃ کی آیت 282 میں ہے کہ

(اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب کسی مقرر مدت کے لیے تم آپس میں قرض کا لین دین کرو، تو اسے لکھ لیا کرو) [٢:٢٨٢]

 اگر فریقین اپنے پاس اس طرح کے ثبوت وغیرہ رکھیں تو  أُولِي الْأَمْرِ کو فیصلے کرنے میں کسی قسم کی دشواری نہ ہو گی۔

سوال:آج کے دور میں اگر أُولِي الْأَمْرِ کے ساتھ کوئی تنازعہ ہوتا ہے میں اس معاملہ کو لیکر کس کے پاس جاؤں؟

جواب: آج کل آپ کے أُولِي الْأَمْرِنے جو سسٹم بنایا ہوا ہے آپ کو اس کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔ کسی ادارے میں تنازعہ ہو جائے تو اس کے محتسب موجود ہیں۔ کسی عدالت کے فیصلے پر اعتراض (تنازعہ) ہے تو اس سے بڑی عدالتیں موجود ہیںَ ۔ دنیاوی أُولِي الْأَمْرِ میں سپریم کورٹ  سب سے بڑی عدالت ہے۔ اس کے فیصلے سے بھی تنازعہ حل نہیں ہوتا تو معاملہ کو اللہ پر ہی چھوڑ دینا بہتر ہے۔ اگر عدالتیں واضح ثبوتوں اور شہادتوں کے بعد آپ کے خلاف فیصلہ دے رہی ہے تو آپ کو اسے مان لینا چاہیے کہ  أُولِي الْأَمْرِ کی اطاعت کا حکم اسی آیت 4:59 میں ہے۔

ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا 4:59 (چوتھا حصہ )

یہ (حکومتی تشکیل کی ) بہترین توضیح و تشریح ہے۔(یہی ایک صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے۔)

درست طریقہ اس لحاظ سے ہے کہ قیامت پر یقین کی وجہ سے اصل اجر وہاں ملے گا۔مزید مقدمے بازی نہیں ہو گی۔

اس آیت کا تعلق اس وقت سے ہے جب معاملے کا فیصلے کرنے کے لیے واضح ثبوت نہ، ہو سکتا ہے صاحب عدل صلح کا کہہ دے تو اس کی بات ماننی چاہیے۔

غیر اسلامی ممالک میں 4:59 کا اطلاق

ایسے مسلمان جو غیر اسلامی  ممالک میں  رہتے ہیں وہ اس آیت 4:59 پر اس طرح سے عمل کریں گے کہ  اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت میں قرآن کریم کے احکامات پر عمل کریں گے۔ أُولِي الْأَمْرِ کی اطاعت کے ضمن میں وہاں کے جج اور قانون کا احترام کریں گے اور ان کے فیصلے کو قرآن  کے احکامات کی روشنی میں تسلیم کریں گے۔کوئی ایسا حکم نہیں مانیں گے جو سراسر کفر ہو جیسے کہ قرآن کریم میں ہے کہ

وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا ۖ وَإِن جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۚ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ [٢٩:٨]

(ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے لیکن اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسے (معبُود) کو شریک ٹھیرائے جسے تو (میرے شریک کی حیثیت سے) نہیں جانتا تو ان کی اطاعت نہ کر میری ہی طرف تم سب کو پلٹ کر آنا ہے، پھر میں تم کو بتا دوں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو ۔)

اسی طرح ایسے وہ احکام جو شرک کا باعث بنتے ہو اُن احکام کی پابندی لازم نہیں۔ لیکن اگر زبردستی کی جائے تو اللہ کی زمین بہت بڑی ہے کفر کی بجائے ہجرت فرض ہے کہ کفر کا کوئی بہانہ قبول نہ ہو گا۔

إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنتُمْ ۖ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ ۚ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا ۚ فَأُولَٰئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا [٤:٩٧]

(جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے اُن کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور و مجبور تھے فرشتوں نے کہا، کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے )

غیر اسلامی ممالک میں کسی حد تک اپنا ایمان چھپایا جا سکتا ہے  جیسا کہ اس آیت میں ہے۔

وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ إِنَّ الْكَافِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِينًا [٤:١٠١]

(اور جب تم لوگ سفر کے لیے نکلو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر نماز میں اختصار کر دو (خصوصاً) جبکہ تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے کیونکہ وہ کھلم کھلا تمہاری دشمنی پر تلے ہوئے ہیں )

 مگر کفر پر عمل نہیں کرنا۔ عبادات اس حد تک ترک کی جاسکتی ہیں کہ  سب کے سامنے ادا نہ کی جائیں۔ سکارف وغیرہ کی پابندی ہو تو اس پابندی پر عمل کرنے پر بھی کوئی حرج نہیں۔ ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے دیکھنا چاہیے کہ اس کے کرنے سے کفر تو نہیں ہو جائے۔ کفر نہ ہو تو کرنا جائز ہوگا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


Sura 65 الطلاق Ayat 4 Translation Muhammad Ameen

January 4, 2019

Muhammad Ameen, Urdu Translation

Comments Off on Sura 65 الطلاق Ayat 4 Translation Muhammad Ameen


اور تمہاری عورتوں میں سے جن عورتوں کو حیض کی امید نہیں رہی ہے اگر تم (مردوں کو اْن عورتوں کے حیض سے مایوسی کے بیان پر) شبہ ہو تو ان(عورتوں) کی عدت تین مہینے ہیں اور ان (عورتوں)کی بھی جن کوحیض نہیں آتا(اور اس نہ آنے پر سب کو یقین ہے، عورتوں کا اپنے بارے میں کہنا، کہ حیض نہیں آتا، ہی کافی ہے۔ مردوں کے شبے کی کوئی اہمیت نہیں) اور حمل والیوں کی عدت ان کے بچہ جننے تک ہے اور جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ اس کے کام آسان کر دیتا ہے۔

اس سورۃ الطلاق کی آیت چار میں طلاق کے بعد کی صورت حال کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ پہلے تو ایسی عورتوں کا ذکر ہے جن کی عمر 45 سے 65 سال یا کچھ اور ہو اور اْن کو حیض نہ آتا ہو، کسی بیماری کی صورت میں یا عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے۔ اگر وہ طلاق کے بعد یہ بیان دیں کہ اْن کو حیض نہیں آتا تو ان کی عدت کی مدت تین ماہ ہے۔ تین حیض کی مدت نہیں۔یہ جو شبہ یا شک کی بات کی گئی ہے، یہ عدت کی مدت میں شک و شبہ نہیں بلکہ حیض کے آنے یا نہ آنے پر ہے۔ یعنی مرد کو عورت پر اعتبار نہیں، وہ عورت کے بیان کو جھوٹا سمجھ رہا ہو وغیرہ۔اگر یہاں عدت کی مدت کے بارے میں شک کا اظہار ہوتا تو آیت کے اگلے حصے کا لفظی ترجمہ ہی یہ ہے کہ جن عورتوں کو حیض نہیں آتا۔ صاف معلوم ہو رہا ہے کہ پہلے حصے میں حیض کے بارے میں شک کی بات ہو رہی ہے نہ کہ عدت کی مدت کے بارے میں۔آیت کے اگلے حصے میں جو ذکر ہے وہ اْن عورتوں کا ہے جن کے بارے میں سب کو یقین ہے کہ اْن کو حیض نہیں آتا، یہ یقین عمر کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ہو یا سب کو پتہ ہو کہ اس عورت کو کوئی ایسی بیماری ہے جس میں حیض نہیں آتا تو اْن عورتوں کی عدت کی مدت بھی تین ماہ ہی ہے۔آیت کے آخری حصے میں جو ذکر ہے کہ ’’اور جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ اس کے کام آسان کر دیتا ہے‘‘ اس کا مطلب ہے کہ اللہ سے ڈرتے ہوئے حمل، حیض کے بارے میں درست بیان دینا۔ اللہ سے ڈرنے والوں کے ہر کام اللہ تعالیٰ آسان کر دیتے ہیں۔
بہت سے لوگ اس آیت سے کم عمر میں شادی اور خلوت کے جواز کو ثابت کرتے ہیں۔جن عورتوں کو حیض نہیں آتا کا ترجمہ ’’حیض شروع نہیں ہوا‘‘ کرتے ہیں، اصل لفظی ترجمہ ہے جن کو حیض نہیں آتا۔ یعنی پہلے حصے میں شک کی بات تھی اور یہاں یقین کی صورت میں حکم ہے۔اس آیت کا کم عمری کی شادی سے دور دور کا بھی تعلق نہیں ہے، بس حیض کے بارے میں شبہ، یقین اور حاملہ مطلقہ کی عدت کا بیان ہے۔آیت عورتوں یعنی نِّسَا کے بارے میں ہے۔ نِّسَا کا لفظ عورتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ، کم عمر لڑکیوں کے لیے نہیں۔


Sura 6 الأنعام Ayat 101 Translation Muhammad Ameen

January 4, 2019

Muhammad Ameen, Urdu Translation

Comments Off on Sura 6 الأنعام Ayat 101 Translation Muhammad Ameen


“اللہ اس ساری کائنات کا مؤجد ہے- اس کے شایان شان ہی نہیں، وہ اس شئے کا سزاوار ہی نہیں ہوسکتا کہ اس کا کوئی بیٹا ہو، یا اس کی کوئی مؤنث ساتھی ہو- حقیقت یہ ہے کہ وہ ہر شئے کا خالق ہے، اس کا ہر علم کائنات کی ہر شئے پر محیط ہے“


Sura 1 الفاتحة Ayat 1 Translation Muhammad Ameen

January 4, 2019

Muhammad Ameen, Urdu Translation

Comments Off on Sura 1 الفاتحة Ayat 1 Translation Muhammad Ameen


اللہ کے نام سے جو سب سے زیادہ مہربان اور سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔


Sura 4 النساء Ayat 3 Tafseer Qari Hanif Dar


سید سعد عبداللہ کی بات کا تفصیلی جواب میری پوسٹ میں ہی موجود ہے مگر وہ اس پر غور کرے بغیر ہر جگہ اپنا جواب کاپی پیسٹ کرتے چلے جا رہے ہیں اللہ پاک نے تو کلیئر کٹ اسٹیٹمنٹ دی ہے کہ عدل نہیں کر سکتے تو ایک ہی بیوی پر اکتفا کرو [ فواحدۃً] سے بڑھ کر مزید کلیئر کٹ فیصلہ کیا ھو گا ؟ ،، فان خفتم ان لا تعدلوا سے بھی پہلے وَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى،، موجود ہے جس حکم سے آیت شروع ہوئی ہے کہ اگر تمہیں خدشہ ہو کہ تم یتیموں میں انصاف نہیں کر سکو گے تو ان کی ماؤں سے نکاح کر لو تا کہ وہ تمہارے رشتےدار بن جائیں ، ان کی مائیں تمہاری محرم اور بیٹیاں بھی محرم بن جائیں ،، حکم یتیموں کی کفالت کا دیا گیا ہے، اس لئے کہ یتیموں کے چچا اور تایا جو یتیموں کی کم عمری کی وجہ سے اس مال کے نگران مقرر ہوتے تھے ان سے کہا گیا کہ وہ یتیموں کا مال ٹھیک طور پر ان کو ادا کریں ،اچھی چیز کے بدلے ان کو گھٹیا تبدیل کر کے نہ دیں نیز ان کا مال اپنے مال میں مکس کر کے نہ کھائیں ، یہ بڑے گناہ کا کام ہے پھر فرمایا کہ اگر یتیموں کی کفالت مسائل پیدا کرے تو ان کی ماؤں سے شادی کر لو یعنی بھاوج کو بیوی بنا لو ظاھر ہے یہاں یتیموں کے کفیل مخاطب ہیں جو کہ پورا گاؤں نہیں ہو سکتا مرحوم کے بھائی بند ہی ہو سکتے ہیں ، اگر یہ شادیاں پہلے بیوی بچوں کے لئے مسائل پیدا کریں تو بس ایک بیوی پر اکتفا کرو [ وَآتُوا الْيَتَامَىٰ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا (2) وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا (3) اس وقت اس زمانے کے حساب سے تھا اور موجودہ زمانے میں موجودہ زمانے کے حساب سے ہو گا ،، عرض کیا گیا تھا کہ اس زمانے میں دوسری یا تیسری شادی کے نتائج اس قدر بھیانک نہیں تھے ، بچے ایک کروڑ پتی باپ کے پاس رہیں یا ایک بھیک مانگنے والی ماں کے پاس ، کھانے پینے اور لباس کا فرق ہو گا ،مگر تعلیم اور مستقبل کا کوئی مسئلہ نہیں تھا ، کروڑ پتی باپ کے پاس رہنے والے بچوں نے بھی اونٹ چرانے تھے اور فقیر ماں کے پاس رھنے والوں نے بھی اونٹ ہی چرانے تھے ،مگر اب جو بچے دوسری شادی سے ڈسٹرب ہوں گے وہ بہت پیچھے رہ جائیں گے ، متحد ماں باپ کے پاس رھنے والے نہ صرف تعلیم کے لحاظ سے کسی منزل پہ پہنچ جاتے ہیں بلکہ نفسیاتی طور پر بھی متوازن ہوتے ہیں ، جبکہ گھر میں چخ چخ شروع ہو جائے یا مار کٹائی کا ماحول ہو ، روز مما روٹھ کر میکے چلی جائے اور بچوں کا کھانا پینا ، ہوم ورک اور ذہنی سکون ڈسٹرب ہو جائے تو وہ زیادہ دیر غیرجانبدار نہیں رہ پاتے اور گھر میں خانہ جنگی شروع ہو جاتی ھے جو سرد جنگ سے شروع ہو کر گرم جنگ کا روپ بھی دھار لیتی ہے ،، بچے اس ماحول سے فرار کے لئے نشے کی طرف مائل ہوتے ہیں اور پھر نشے کے لئے چوری چکاری اور دوسرے جرائم کی طرف ،، یہ ہمارے علماء کا کھلا تضاد ہے کہ ایک طرف حضرت عائشہ صدیقہؓ کے اس خدشے کو لے کر کہ ’’ اگر آج رسول اللہ ﷺ ہوتے تو عورتوں کی حالت دیکھ کر عورتوں کو مسجد جانے سے روک دیتے ‘‘ کو بنیاد بنا کر کروڑوں عورتوں کو مسجد جانے سے روک دیتے ہیں ‘‘ جبکہ اللہ نے ان کو مسجد بلایا ھے اور رسول اللہ ﷺ کے دور میں وہ مسجد میں نماز پڑھتی تھیں اور آج بھی پڑھتی ہیں ،،دوسری جانب صرف خدشہ نہیں بلکہ عملی نتائج سامنے ہیں کہ دوسری تیسری شادی کی صورت میں ۹۹ فیصد گھر برباد ہو جاتے ہیں اور بچوں کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے مگر پھر بھی بضد ہیں کہ دوسری صورت ہی افضل ہے ،، آج کا عدل صرف بیویوں تک نہیں بلکہ اولاد تک مطلوب ہے کہ ایک کو انجینئر یا ڈاکٹر بنایا ہے تو دوسری کے بچوں کو بھی برابر کی تعلیم دلانی ہو گی ، یہاں تو ایک کے بچے ہی اعلی تعلیم حاصل کر لیں تو بڑی بات ہے ،، ایف اے ، بی اے آج کوئی تعلیم نہیں ،جبکہ گزرے کل تک پانچ کلاس اور آٹھ کلاس پڑھے ٹیچر ھوا کرتے تھے اور بڑے فخر سے بتایا جاتا تھا کہ بچی پرانے زمانے کی ۸ کلاس پاس ہے ،، مقصد معاشرے کو بھکاری دینا نہیں باعزت طور کما کر کھانے والے دینا ہے ، اس زمانے میں اونٹ چرانے والے کو بھی جھٹ رشتہ مل جاتا تھا اب لوگ اسٹیٹس دیکھ کر رشتہ دیتے ہیں ،، بیٹیاں اسی وجہ سے ہی تو بیٹھی ہیں ، ہر ۲۰ سال والے کو دینا شروع کر دیں اس کا قد دیکھ کر تو بچیاں گھر میں بیٹھی ہی کیوں رہیں اور دوسری تیسری کا سوال ہی پیدا کیوں ہو ؟ لوگ رشتے داروں کی بجائے باہر بھاگتے ہیں تو کچھ لوگ برداری کے سوا باہر رشتہ کرنا جرم اور عیب سمجھتے ہیں ـ بچیوں کے رشتے نہ ہونے کی اور بہت ساری وجوہات ہیں ان کو ڈسکس کرنے کی ضرورت ہے کہ اللہ توکل رشتے کیئے جائیں ہر گھرانا اعلی تعلیم یافتہ داماد نہ ڈھونڈے ،، اور لڑکے والے بھی آسمان سے نیچے اتریں اور مالدار گھرانوں کی تلاش ترک کر کے اپنے غریب عزیز و اقارب کے یہاں سے رشتے کریں ـ کیا یہ اللہ پاک کے حکم کے ۱۸۰ ڈگری مخالف شرط نہیں ہے کہ ہماری لڑکی سے نکاح کرنے سے پہلے ،، پہلی والی کو طلاق دو ؟ اللہ اس پہلی کا تحفظ فرما رہا ھے جبکہ تم اس کا کانٹا ہی نکال رہے ہو پھر بھی دوسری شادی کو اللہ کا حکم فرما رہے ہو ؟ میں نے کئ رشتے ایسے دیکھے کہ لڑکا چاہتا ھے کہ میری پہلی بیوی ذرا سرکش ہو گئ ہے مگر اس سے میرے بچے ہیں ، جن کو الگ مکان لے کر دے رکھا ہے ،بچے اسکول پک اینڈ ڈراپ کر دیتا ھوں اور اخراجات بھی دے رہا ہوں ـ میں چاہتا ھوں کہ اپنے لئے دوسری شادی کر لوں ،، کسی جگہ بات چلائی تو لڑکی نے ہی جھٹ سے کہہ دیا کہ جب تک پہلی والی کو طلاق نہ دے دے میں اس سے شادی نہیں کرونگی ، اس لئے کہ شاید کل وہ اس کے ساتھ پھر راضی ہو جائے ،، زیادہ تر دوسری بیویاں پہلی کا کانٹا کسی نہ کسی طریقے سے نکال کر ہی دم لیتی ہیں ـ

قانون سازی یعنی شریعت میں عرف یا رواج ایک اصول ھے ، اسی لئے امام شافعی جب تک عراق میں رہے ان کی فقہ الگ تھی مصر گئے تو فقہ تبدیل ھو گئ وہ نئی فقہ کہلاتی ھے اور عراق والی پرانی فقہ ،، پھر جہاں سے دو دو تین تین شادیوں کا حکم اخذ کیا جا رھا ھے وہاں شادی موضوع نہیں بلکہ غزوہ احد میں شھید ھونے والوں کے یتیم بچوں کی کفالت زیرِ بحث ہے ، جو کئ رکوع تک چلی گئ ہے ، پھر کہا گیا کہ اگر تم ان کی کفالت کرنا شروع کرو اور معاشرتی مسائل پیدا ھوں [ یعنی ان بیواؤں کے بارے میں اسکینڈل بننا شروع ہو جائیں ،کیوں کہ جس کا دل جب چاہے کوئی نہ کوئی تحفہ اٹھائے یتیم کے گھر کی طرف رواں دواں ہو ،کبھی گوشت تو کبھی پھل تو کبھی کپڑے تو ظاہر ہے منافقین کے فتنے اٹھانے کے لئے یہ سنہرا موقع تھا ] تو پھر ان بیواؤں سے شادی ہی کر لو ، دو دو تین تین چار چار اور پھر اگر ان سے شادی کے نتیجے میں تمہارے حقیقی بیوی بچے خوار ہونا شروع ھو جائیں تو بس ایک پر ہی اکتفا کرو اور یتیموں کے مسئلے کا کوئی اور حل ڈھونڈ لو ،، اسی وجہ سے صحابہ کے دل میں خیال آیا کہ چونکہ ہم یہ شادیاں اللہ پاک کی تجویز پر کر رہے ہیں ناں کہ اپنی عیاشی کے لئے تو پھر ہم کو حق مہر معاف ہونا چاہئے ،جس پر اگلی ہی آیت میں حکم دیا گیا کہ حق مہر تو تم کو دینا پڑے گا وہ بخوشی ادا کرو اس شادی کو شادی بنانے کے لئے ـ
یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی کو حج کا حکم دیا جائے اور پھر اس پر عملدرآمد کے طور پر مشورہ دیا جائے کہ اگر اپنی گاڑی نہیں ہے تو دوسروں کے ساتھ دو دو تین تین چار چار سوار ہو جاؤ یا اپنی گاڑی پر دو دو تین تین چار چار سوار کر لو اور حج کرو ،، اور لوگ حج کے حکم کو تو بھول جائیں اور گاڑی پر دو دو تین تین سوار کرنے کو فرض یا سنت ثابت کرنے پر ہی بحث کو مرکوز کر لیں اور ،،زیادہ بیویوں کی ضرورت حضرت آدم علیہ السلام کو زیادہ تھی تا کہ آبادی فوری طور پر بڑھائی جائے نیز ایک ہی ماں کی پہلی دفعہ اور اگلی دفعہ کی اولاد کو کراس میں بیاھنے کی بجائے دو یا چار الگ ماؤں سے ہوتی تو آپس میں بیاھنا زیادہ معقول ھوتا ، وہاں تو اللہ پاک نے گھر بس ایک مرد اور ایک عورت سے شروع فرمایا ،، باقی دوسری تیسری چوتھی مجبوری میں جائز ہے وہ مجبوری یہ ہو کہ پہلی بیوی سے اولاد نہیں ہو رہی کنفرم خامی ہے تو نسل کشی کے لئے دوسری کی جائے یا سیاسی یا معاشرتی مجبوری ہو ـ نبئ کریم ﷺ کی بھی پہلی شادی عائلی شادی تھی باقی سب شادیوں کی وجوہات الگ الگ تھیں ـ جن پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے

سورس


Sura 29 العنكبوت Ayat 51 Tafseer Zahid Hussain


کیا انہیں یہ کافی نہیں؟ کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل فرما دی جو ان پر پڑھی جا رہی ہے، اس میں رحمت (بھی) ہے اور نصیحت (بھی) ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان والے ہیں (29/51) یہ وہ آیت ہے جس سے نکالے گئے ایک غلط مفہوم کی بنیاد پر ہم جیسے بہت سے طالب قرآن دھوکہ کھاگئے اور ایک عرصے تک یہ سمجھتے رہے کہ اللہ کی کتاب دین کو بیان کرنے کے لئے کافی ہے ۔ ایک انگلش کا لفظ ہے ٹویسٹ جس کے معنی ہیں موڑدینا، بدل دینا اس کا استعمال وہاں کیا جاتا ہے جب بات کرنے والا اصل بات کو اس طرح بدل دے کہ سننے والے کو اس کا پتہ بھی نہ چلے ۔ اس کی مثال میں اپ کو قران ہی سے دیتا ہوں۔ وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقًا يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُم بِالْكِتَابِ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ الْكِتَابِ وَمَا هُوَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِندِ اللَّـهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِندِ اللَّـهِ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ﴿٧٨﴾ ترجمہ: یقیناًان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو کتاب پڑھتے ہوئے اپنی زبان اس طرح موڑتے ہیں تاکہ تم اسے کتاب ہی کی عبارت خیال کرو حاﻻنکہ دراصل وه کتاب میں سے نہیں، اور یہ کہتے بھی ہیں کہ وه اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے حاﻻنکہ در اصل وه اللہ تعالی کی طرف سے نہیں، وه تو دانستہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں (3/78) یہ وہ لوگ ہیں جو بظاہر تو اپ کے سامنے اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں لیکن اپنی زبان کی ایسی ڈنڈی بیچ میں مارتے ہیں کہ لوگوں کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ جو کچھ بیان ہورہا ہے وہ اللہ کی کتاب میں سے نہیں ہے اور وہ بے چارے دھوکہ کھاجاتے ہیں۔ یہی اول الزکرآیت کے ساتھ کیا گیا اس آیت کا سادہ ترجمہ بھی دیکھ لیجیے تو ہر گز یہ مفہوم سامنے نہیں آتا کہ اللہ کی کتاب دین کو بیان کرنے کے لئے کافی ہے اور اگر اس کا سیاق وسباق دکھ لیا جائے تو پھر اس ٹوئسٹ زدہ مفہوم کی بالکل بھی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ۔ آیت یفکفھم سے پہلے موجود یہ آیت دیکھیے
انہوں نے کہا کہ اس پر کچھ نشانیاں اس کے رب کی طرف سے کیوں نہیں اتاری گئیں ۔ آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں تو سب اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں میں تو صرف کھلم کھلا آگاه کر دینے واﻻ ہوں (29/50) اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جب تک سوال معلوم نہ ہو پتہ نہیں چلتا کہ جو جواب دیا گیا ہے وہ کس طرف اشارہ کررہا ہے یہاں پر پہلے کفار کا سوال دیکھیے کہ وہ معجزات مانگ رہے ہیں اور جواب میں کہا جارہا ہے کہ کیا یہ کافی نہیں کہ ان پر کتاب اتر رہی ہے یعنی اگر انہیں معجزہ ہی درکار ہے تو کیا یہ معجزہ کافی نہیں ۔ جی ہاں یہ ہے اس ایت کا درست مفہوم جس کو ٹوئسٹ کرکے یہ مفہوم بنایا گیا کہ اللہ کی کتاب دین بیان کرنے کے لئے کافی ہے اور اس مفہوم کو بنانے والوں کا مقصد چاہے برا نہ بھی ہو پھر بھی اس نطریے سے دین کے دوسرے حصے کا رد ہوتا چلا گیا۔ دین کا وہ دوسرا حصہ جو علاوہ قرآن رسول اللہ پر وحی ہوا جس کی مدد سے ہم صلواۃ ، زکواۃ ، صوم ، حج وغیرہ ادا کرتے ہیں۔ دیکھیے جب کوئ شخص یہ کہے گا کہ اکیلے قران سے دین پر عمل ہوسکتا ہے تو پھر وہ اپنی اولاد کوکس طرح نماز پر قائل کرے گا پرویز صاحب کے ساتھ بھی یہی ہوا وہ لوگوں سے کہتے رہے کہ اللہ کی کتاب دین کو بیان کرنے کے لئے کافی ہے لہزہ باوجود اس کے کہ وہ خود نماز پڑھتے تھے اپنے پیروکاروں کو نماز پر قائل نہ کرسکے نتیجہ دیکھ لیجیے کہ اب ان کے پیروکاروں کی اکثریت نماز نہیں پڑھتی کیونکہ جو نظریہ وہ پیش کرگئے اس سے یہی رزلٹ نکلنا تھا۔ اس کا تازہ ترین مشاہدہ میں نے یوں دیکھا کہ کچھ دنوں پہلے میں اپنے ایک دوست کے ساتھ ایک ایسی عجیب وغریب مسجد میں گیا جہاں بظاہر قرانی فکر کے چالیس پچاس لوگ جمع ہوئے تھے لیکن وہاں مجلس میں ڈھائ تین بجے تک کوئ نماز کا اہتمام نہ ہوا پھر نہ صرف سب لوگ وہاں سے نماز پڑھے بغیر ہی رخصت ہوئے بلکہ کسی نے نماز کا زکر کرنا تک خیال نہ کیا۔ پھر دوبارہ میں وہاں نہیں گیا بات قران کی ہو مسجد میں ہو اور وہاں صلواۃ نہ ہو یہ عجب انداز مجھے تو ہضم نہ ہوا۔

سورس


Sura 2 البقرة Ayat 258 Tafseer Muhammad Ameen


سورۃ البقرہ آیت 258۔ اگر نمرود سورج کو مغرب سے نکالنے کا مطالبہ کرتا۔۔۔۔
تحریر: محمد امین اکبر
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ ۖ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ﴿۲۵۸﴾ۚ
کیا نہ دیکھا تو نے اس شخص کو جس نے جھگڑا کیا ابراہیم سے اس کے رب کی بابت اسی وجہ سے کہ دی تھی اللہ نے اس کو سلطنت جب کہا ابراہیم نے میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے وہ بولا میں بھی جلاتا اور مارتا ہوں کہا ابراہیم نے کہ بیشک اللہ تو لاتا ہے سورج کو مشرق سے اب تو لے آ اس کو مغرب کی طرف سے تب حیران رہ گیا وہ کافر اور اللہ سیدھی راہ نہیں دکھاتا بے انصافوں کو۔
اس آیت کے حوالے سے ایک بات علامہ نیاز فتح پوری نے نگار میں لکھی تھی جسے ان کے مضامین کے مجموعے من و یزداں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ حضرت ابراہیم نے نمرود سے کہا کہ میرا خدا مشرق سے سورج کو طلوع کرتا ہے۔ تو خدا ہے تو سورج کو مغرب سے نکال کر دکھا۔ اس پر نمرود لاجواب ہوگیا۔
علامہ صاحب لکھتے ہیں کہ نمرود اگر الٹ کر کہہ دیتا کہ میں سورج کو مشرق سے نکالتا ہوں۔ تو اپنے خدا سے کہہ کہ وہ سورج کو مغرب سے نکالے تو حضرت ابراہیم کے پاس کوئی جواب نہ رہ جاتا۔
 
جواب
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قرانی واقعے میں نمرود کا بھی ذکر ہے۔ یہ نمرود بھی خدائی کا دعویٰ کرتا تھالیکن قرآن کریم کو پڑھ کر ہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ نمرود خدائی کا دعویٰ تو کرتا تھا لیکن اسے خود معلوم نہیں تھا کہ حقیقی خدا کی صفات کیا ہیں۔ اس نمرود کے دور میں بھی بت پرستی ہوتی ہے۔
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿الأنعام: ٧٤﴾
ابراہیمؑ کا واقعہ یاد کرو جبکہ اُس نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا “کیا تو بتوں کو خدا بناتا ہے؟ میں تو تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتا ہوں” (۶: ۷۴)
لوگ ان بتوں کو ہی خدا سمجھتے تھے اور ان توہین برداشت نہیں کرتے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصے میں مذکور ہے کہ انہوں نے ان کے بت خداؤں کو توڑا تھا،جس کی پاداش میں انہیں آگ میں ڈالا گیا تھا۔
سورۃ بقرہ کی آیت 258 میں جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نمرود سے مکالمہ ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے خدا کا تعارف کرایا کہ ان کا خدا وہ ہے جو زندگی دیتا ہےا ور موت دیتا ہے۔ اس کے جواب نمرود نے اپنی عقل کے مطابق دلیل پیش کی کہ زندگی اور موت تو وہ بھی دے سکتا ہے۔روایات کے مطابق یہاں نمرود نے بے گناہ کی پھانسی اور گناہ گار کو چھوڑ کر اس کا ثبوت بھی دیا ۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہاکہ اُن کا خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، اگر نمرود خدا ہے تو سورج کو مغرب سے نکالے۔ یہ سن کر نمرود حیران رہ گیا۔ اس کی حیرانی کی وجہ خدا کے وجود کی وہ دلیل تھی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دی تھی۔
اب آ جاتے ہیں علامہ نیاز فتح پوری صاحب کی بات پر کہ نمرود اگر الٹ کر کہہ دیتا کہ میں سورج کو مشرق سے نکالتا ہوں۔ تو اپنے خدا سے کہہ کہ وہ سورج کو مغرب سے نکالے تو حضرت ابراہیم کے پاس کوئی جواب نہ رہ جاتا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نہیں معلوم تھا کہ نمرود بھی جواب میں اسی دلیل کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ میرے خیال میں تو ایسا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے علم میں تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مکمل اطمینان تھا کہ اللہ تعالیٰ مطالبے پر سورج کو مغرب سے بھی نکال سکتے ہیں ۔وہ اللہ کے رسول تھے، ان سے زیادہ کسے اس بات کا یقین ہو سکتا تھا۔ علامہ صاحب کو اگر شک تھا کہ اللہ تعالیٰ نعوذ باللہ ایسا نہیں کر سکتے تھے تو اس سے اگلی آیت 259 میں بھی تو ایک معجزاتی واقعے کا ذکر جس میں حضرت عریز علیہ السلام سو سال تک سوتے رہے تھے۔
أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَىٰ قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحْيِي هَٰذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ۖ فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ ۖ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ۖ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۖ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانظُرْ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ ۖ وَانظُرْ إِلَىٰ حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِّلنَّاسِ ۖ وَانظُرْ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ [٢:٢٥٩]
یا پھر مثال کے طور پر اُس شخص کو دیکھو، جس کا گزر ایک ایسی بستی پر ہوا، جو اپنی چھتوں پر اوندھی گری پڑی تھی اُس نے کہا: “یہ آبادی، جو ہلاک ہو چکی ہے، اسے اللہ کس طرح دوبارہ زندگی بخشے گا؟” اس پر اللہ نے اس کی روح قبض کر لی اور وہ سوبرس تک مُردہ پڑا رہا پھر اللہ نے اسے دوبارہ زندگی بخشی اور اس سے پوچھا: “بتاؤ، کتنی مدت پڑے رہے ہو؟” اُس نے کہا: “ایک دن یا چند گھنٹے رہا ہوں گا” فرمایا: “تم پر سو برس اِسی حالت میں گزر چکے ہیں اب ذرا اپنے کھانے اور پانی کو دیکھو کہ اس میں ذرا تغیر نہیں آیا ہے دوسری طرف ذرا اپنے گدھے کو بھی دیکھو (کہ اِس کا پنجر تک بوسید ہ ہو رہا ہے) اور یہ ہم نے اس لیے کیا ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنا دینا چاہتے ہیں پھر دیکھو کہ ہڈیوں کے اِس پنجر کو ہم کس طرح اٹھا کر گوشت پوست اس پر چڑھاتے ہیں” اس طرح جب حقیقت اس کے سامنے بالکل نمایاں ہو گئی، تو اس نے کہا: “میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے”
اس سے اگلی 260 ویں آیت بھی اسی طرح کی ہے۔
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن قَالَ بَلَىٰ وَلَٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا وَاعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴿البقرة: ٢٦٠﴾
اور وہ واقعہ بھی پیش نظر رہے، جب ابراہیمؑ نے کہا تھا کہ: “میرے مالک، مجھے دکھا دے، تو مُردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے” فرمایا: “کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟” اُس نے عرض کیا “ایمان تو رکھتا ہوں، مگر دل کا اطمینان درکار ہے” فرمایا: “اچھا تو چار پرندے لے اور ان کو اپنے سے مانوس کر لے پھر ان کا ایک ایک جز ایک ایک پہاڑ پر رکھ دے پھر ان کو پکار، وہ تیرے پاس دوڑے چلے آئیں گے خوب جان لے کہ اللہ نہایت با اقتدار اور حکیم ہے” (۲: ۲۶۰)
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر نمرود حضرت ابراہیم علیہ السلام سے سورج کو مغرب سے نکالنے کا کہتے تو اللہ تعالیٰ لازما یہ کام بھی کرتے۔اس بات کا ثبوت اس آیت سے بھی ملتا ہے۔اگر مندرجہ بالا دو آیات کی کچھ تاویل معجزات سے ہٹ کر کی جائے تو قرآن کریم کےمطالعے سے ہی پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا مطالبہ پوری کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔
وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّن رَّبِّهِ ۚ قُلْ إِنَّ اللَّهَ قَادِرٌ عَلَىٰ أَن يُنَزِّلَ آيَةً وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ [٦:٣٧]
یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری؟ کہو، اللہ نشانی اتارنے کی پوری قدرت رکھتا ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مبتلا ہیں
اللہ تعالیٰ نے ماضی میں بھی لوگوں کے مطالبے پر ایسی مافوق الفطرت نشانیاں بھی ظاہر کی ہیں ۔
 
الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّىٰ يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ ۗ قُلْ قَدْ جَاءَكُمْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِي بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالَّذِي قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ [٣:١٨٣]
وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ الله نے ہمیں حکم فرمایا تھا کہ ہم کسی پیغمبر پر ایمان نہ لائیں یہاں تک کہ وہ ہمارے پاس قربانی لائے کہ اسے آگ کھا جائے کہہ دو مجھ سے پہلے کتنے رسول نشانیاں لے کر تمہارے پاس آئے اور یہ نشانی بھی جو تم کہتے ہو پھر انہیں تم نے کیوں قتل کیا اگر تم سچے ہو
 
ایسے میں یہ کہنا غلط ہے کہ نمرود سورج کو مغرب سے نکالنے کا مطالبہ کرتا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس کوئی جواب نہ رہ جاتا۔ اگر ایسا مطالبہ ہوتا تو اتمام حجت کے لیے یہ مطالبہ بھی لازمی پورا ہوتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sura 34 سبإ Ayat 14 Tafseer Hafiz Safwan


عقیدۂ حیات بعد الموت کا مطلب دنیاوی کام چھوڑ دینا نہیں ہے…

.
پھر جب ہم نے اس پر موت کا فیصلہ نافذ کیا تو کسی چیز نے ان کو اس کے مرنے کا پتہ نہیں دیا مگر زمین کے کیڑے نے… (سبا 14)

حضرت سلیمان علیہ السلام کی موت کا وقت آیا تو وہ اپنا عصا ٹیکے ہوئے تھے اور جنوں سے کوئی تعمیری کام کرا رہے تھے۔ موت کے فرشتے نے آپ کی روح قبض کرلی مگر آپ کا بے جان جسم عصا کے سہارے بدستور قائم رہا۔ جنات یہ سمجھ کر اپنے کام میں لگے رہے کہ آپ ان کے قریب موجود ہیں اور نگرانی کر رہے ہیں۔ اس کے بعد عصا میں دیمک لگ گئی۔ ایک عرصے کے بعد دیمک نے عصا کو کھوکھلا کر دیا تو آپ کا جسم زمین پر گر پڑا۔ اس وقت جنوں کو معلوم ہوا کہ آپ وفات پا چکے ہیں۔

حضرت سلیمان کا واقعہ یہ سمجھنے کے لیے بہترین مثال ہے کہ کسی کی موت کو جاری دنیاوی کاموں میں حارج نہیں ہونا چاہیے۔ موت ناکارہ ہوکر یا الگ تھلگ رہ کر نہیں بلکہ انسانیت کی بہتری کے کام کرتے کرتے آنی چاہیے۔

سورس


Sura 4 النساء Ayat 159 Tafseer Qari Hanif Dar


و ان من اھل الکتاب الا لیومنن بہ قبل موتہ !

( دورِ مصطفی ﷺ کے )ان اھل کتاب میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو مرنے سے پہلے ان [محمد ﷺ] پر ایمان نہ لے آتا ھو اور یہ[ ﷺ ] قیامت کے دن ان پر گواہ ھونگے ـ النساء ۱۵۹

بات شروع نبئ کریم ﷺ سے ہی ھوئی ھے ،شروع رکوع دیکھئے یسئلک اھل الکتاب ان تنزل علیہم کتابا من السماء ،، یہ اھل کتاب آپ سے سوال کرتے ہیں کہ آسمان سے لکھی ھوئی کتاب لے آیئے ،، انہوں نے موسی علیہ السلام سے اس سے بھی بڑا سوال کیا تھا کہ اللہ ھم کو آمنے سامنے دکھا دو ،، فقد سالوا موسی اکبر من ذالک فقالوا ارنا اللہ جھرۃ ، اگر اس ’’ بہ ‘‘سے مراد عیسی علیہ السلام ہیں تو ان کی آمد پر ان اھل کتاب کو بھی دوبارہ زندہ کرنا چاہئے تھا تا کہ وہ ان پر ایمان لاتے ،، بعد والے تو حضرت عیسی علیہ السلام کے مخاطب ھی نہیں ہیں ،،

کیا اھل کتاب کا عیسی علیہ السلام پر ایمان لانا ان کے مسلمان ھونے کے لئے کافی ہے ؟ تو پھر اب عیسائیوں کے اس فرقے کے مسلمان ھونے میں کیا شک ھے جو ان کو خدا کا بیٹا نہیں سمجھتے ؟

نبئ کریم ﷺ کی بعثت کے بعد اب اور کوئی رسول بطور شاھد نہیں ھو سکتا ،، لیکون الرسول شھیداً علیکم و تکونوا شھداء علی الناس ،، کو منسوخ کرنا پڑے گا ـ
ھمیشہ موضوع کو لیا جاتا ھے اور ھر مثال اسی سے متعلق ھوتی ہے ،، اس کے فوری بعد ، انا اوحینا الیک والی آیت میں عیسی علیہ السلام کا ذکر ماضی کے رسولوں میں کر دیا گیا ھے ، مستقبل کے لئے کوئی گنجائش وھاں پیدا نہیں کی گئ ،، کہنا چاہئے تھا کہ ابھی تو عیسی پر آپ کے بعد بھی وحی کریں گے  !

إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَىٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ ۚ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا (163) وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا (164) رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (165)

سورس


Sura 4 النساء Ayat 159 Tafseer Muhammad Naeem Khan


سورہ النِّسَاء کی آیت 159 کی تفسیر

یہ آیت حضرت عیسی کی واپسی کے حق میں پیش کی جاتی ہے کہ جب اُن کی دوبارہ واپسی ہوگی تو اہل کتاب میں سے ہر ایک اپنی موت سے پہلے اُن پر ایمان لے آئے گا اس طرح پوری دنیا مسلمان ہوجائے گی۔قرآن کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ یہ دعوی کتنا سچا ہے اور کیا قرآن اس کی سند فرہام کرتا ہے؟۔ اس آیت کا سادہ سا ترجمہ پیش کر رہا ہوں :

وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ﴿١٥٩﴾
اور (قربِ قیامت نزولِ مسیح علیہ السلام کے وقت) اہلِ کتاب میں سے کوئی (فرد یا فرقہ) نہ رہے گا مگر وہ عیسٰی (علیہ السلام) پر ان کی موت سے پہلے ضرور (صحیح طریقے سے) ایمان لے آئے گا، اور قیامت کے دن عیسٰی (علیہ السلام) ان پر گواہ ہوں گے، (159)
ترجمہ طاہرالقادری

یہی ترجمہ یا اس سے ملتا جلتا ترجمہ مولانا مودودی، احمد رضا خان، احمد علی، جالندری، محمد جونا گڑھی وغیرہ نے کیا ہے اور اس ترجمے کے پیچھے یہی عقیدہ کارفرما ہے کہ حضرت عیسی کی واپسی ہوگی اور انہیں اللہ نے آسمان پر زندہ اُٹھالیا ہے۔ یہ تمام تراجم قرآن کو سامنے رکھ کر نہیں کئے گئے بلکہ ان کی بنیاد وہ روایات ہیں جو حضرت عیسی کی واپسی کی خبر دیتی ہیں ۔

اب اگر ہم قرآن سے ہی پوچھیں کہ جس وقت قرآن نازل ہو رہا تھا اُس وقت اھل کتاب کا کیا عقیدہ تھا؟۔ یہ بات تو قارین بخوبی جانتے ہی ہونگے کہ قرآن یہود و نصاری کو اھل کتاب کہہ کر پکارتا ہے۔ اس لئے اس میں مزید تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ۔

اگر اس ہی سورہ کی آیت 171 کا مطالعہ کریں تو وہاں اللہ اھل کتاب یعنی نصاری کو اپنے دین میں غلو کرنے اور تثلیث کے عقیدے کی نفی کر رہا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عیسائ نزول قرآن کے وقت اس عقیدہ تثلیث پر قائم تھے۔ وہ اس عقیدہ کو دل و جان سے قبول کئے ہوئے تھے کہ اللہ نے اپنا ایک بیٹا اس دنیا میں بھیجا جس نے سولی پر چڑھ کر اپنے خون سے ان کے گناہوں کا کفارہ ادا کیا۔ اب جو بھی ان پر یقین کرے گا وہی اللہ کی جنت کا حقدار ہوگا۔

اب دوسری جانب اھل کتاب کے دوسرے گروہ کا عقیدہ قرآن سے معلوم کرتے ہیں۔ اگر آپ اس ہی سورہ کی آیت 157 کا مطالعہ کریں تو اس میں اللہ یہ بات بیان کر رہا ہے کہ یہودی اس عقیدہ پر یقین رکھتے تھے کہ انہوں نے حضرت عیسی کو سولی پر چڑھا دیا تھا جس کی نفی اللہ اس آیت میں فرما رہا ہے کہ نہ تو انہوں نے حضرت عیسی کو قتل کیا اور نہ ہی اُن کو صلیب دی۔

اب یہ دونوں عقیدے نزول قرآن کے وقت اھل کتاب کے تھے۔ اھل کتاب کے یہ دونوں گروہ اس بات پر یقین رکھتے تھے اور آج بھی ان میں سے ایک کا یہی عقیدہ ہےکہ حضرت عیسی سولی پر چڑھ گئے تھےاور دوسرا اس زعم میں ہے کہ انہوں نے حضرت عیسی کو قتل کیا ہےاور صلیب پر چرھانے والے یہی تھے۔اب ان دونوں عقیدوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس آیت کا ترجمہ کریں جس کی تفسیر یہاں بیان ہو رہی ہے تو اس کا ترجمہ کچھ یوں ہوگا:

اور کوئی اہل کتاب میں ایسا نہیں ہے جو اپنی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لائے اور قیامت کے دن عیسٰی علیھ السّلام اس کے گواہ ہوں گے (159)

عربی متن میں موجود لفظ لَيُؤْمِنَنَّ واحد مذکر غائب فعل مضارع ہے یعنی ایمان لاتا ہے اور لاتا رہے گا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کس پر؟ جس کو دوسرے لفظ بِهِ نے تفسیر کی ہے جس میں ”ھ“ کی ضمیر اس پورے سیاق و سباق میں حضرت عیسی کی طرف لوٹتی ہے جن کا زکر اس سے پچھلی آیات میں چلا آرہا ہے۔ اب ہر اھل کتاب اپنی موت سے پہلے اس بات پر ایمان لاتا ہے جس کا زکر اُوپر میں نے بیان کیا۔ اس کا عقیدہ مکمل ہی نہیں ہوتا جب تک وہ اس پر ایمان نہ لائے۔ جس کے خلاف گواہی حضرت عیسی اللہ کے سامنے پیش کریں گے جس کا زکر سورہ المائدہ کی آیات 115 سے 117 میں بیان ہوا ہے۔

یہ ہے اس پوری آیت کا سیاق و سباق اور اس کی تفسیر جس کو احبات ایک غیر قرآنی عقیدہ کو ثانت کرنے کے لئے پیش کرتے ہیں ۔ یہ میرا فہم ہے جو میں نے قرآن کے مطالعے سے سمجھا۔ اس میں یقینن غلطی کی گنجائش ہوگی ۔

 


Sura 38 ص Ayat 33 Tafseer Muhammad Naeem Khan


حضرت سلیمان کا گھوڑوں کے قتل کا واقعہ

یہ واقعہ ہمیں جیسا کہ مفسرین بیان کرتے ہیں سورہ ص کی آیات 31 سے 33 میں ملتا ہے۔ یہ صرف تین آیات ہیں جن کے مطلب میں نہ تو کوئ مشکل ہے اور نہ ہی کوئ پیچیدگی لیکن نہ جانے کیوں مفسرین کو اتنی سادہ سی آیات کی ایسی تفسیر کرنی پڑی اور ان آیات میں ایسے الفاظ کا اضافہ کرنا پڑا جو عربی متن میں موجود ہی نہ تھے۔ ان آیات کا سادہ سا ترجمہ پیش کر رہا ہوں اس کے بعد اس کی تفسیر جیسا میں نے سمجھا ہے بیان کرونگا۔

إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ ﴿٣١﴾ فَقَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَن ذِكْرِ رَبِّي حَتَّىٰ تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ ﴿٣٢﴾رُدُّوهَا عَلَيَّ ۖ فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ ﴿٣٣﴾
جب اُن کے سامنے شام کے وقت نہایت سُبک رفتار عمدہ گھوڑے پیش کئے گئے، (31) تو انہوں نے (اِنابۃً) کہا: میں مال (یعنی گھوڑوں) کی محبت کو اپنے رب کے ذکر سے بھی (زیادہ) پسند کر بیٹھا ہوں یہاں تک کہ (سورج رات کے) پردے میں چھپ گیا، (32) انہوں نے کہا: اُن (گھوڑوں) کو میرے پاس واپس لاؤ، تو انہوں نے (تلوار سے) اُن کی پنڈلیاں اور گردنیں کاٹ ڈالیں (یوں اپنی محبت کو اﷲ کے تقرّب کے لئے ذبح کر دیا)، (33)
ترجمہ طاہر القادری

اب آپ تمام احباب غور کریں کہ ان آیات میں کہیں تلوار کا ذکر ہے؟ کہیں سورج کا ذکر کیا گیا ہے؟۔ چلین ان آیات پر غور کرتے ہیں ۔

واقعہ بہت سادہ سا ہے کہ حضرت سلیمان کے سامنے نہایت سبک رفتار عمدہ گھوڑے پیش کئے گئے۔ اب ظاہر ہے یہ گھوڑے حضرت سلیمان نے شوقیہ تو نہیں پالے ہوئے تھے۔ ان گھوڑوں کے رکھنے کا بھی کوئ مقصد تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ کیا مقصد تھا؟۔ اب اگر آپ قرآن کی دیگر آیات کا مطالعہ کریں تو آپ کو بخوبی معلوم ہوگا کہ حضرت سلیمان ایک عظیم سلطنت کے مالک تھے۔ جس طرح ہر سلطنت کے قیام کے لئے ایک مضبوط فوج درکار ہوتی ہے اس ہی طرح حضرت سلیمان کے پاس بھی ایک مضبوط فوج تھی۔ اب اس زمانے میں ٹینک یا دوسرا جدید جنگی سامان تو تھا نہیں ،سوائے اس کے کہ سواری کے لئے سبک رفتار عمدہ گھوڑے جنگوں میں کام آیا کرتے تھے۔ یہ جنگوں میں کلیدی کردار ادا کیا کرتے تھے۔ ان کی دیکھ بھال اور ان کا معائنہ فوج کی بحالی اور کسی بھی ناگہانی جنگ کی تیاری کے لئے نہایت اہم ہے۔ ایسی پریڈز آجکل تمام دنیا میں عام بات ہے۔ اس کے علاوہ اللہ نے حضرت سلیمان کے لئے لوہے کے چشمے بہا دیے تھے۔ جس سے وہ جنگی سازوسامان تیار کیا کرتے تھے۔ ہواوں کو ان کے لئے مسخر کردیا تھا۔ ان کے بحری بیڑے سمندروں کی مسافت مہینوں کا سفر دنوں میں طے کیا کرتے تھے۔ یہ سب فضل اللہ کا ان پر تھا۔

اب چونکہ تمام رسولوں کو یہی ہدایت دی گئ تھی کہ دشمنوں کے مقابلے میں اپنا جنگی سامان تیار رکھیں تاکہ ان کے دلوں میں رعب قائم رہے۔ یہ جنگی سامان کسی پر ظلم کے لئے نہیں بلکہ انسانوں کو ظلم سے نکالنے اور اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے کام آتے تھے۔ بلکل ایسا ہی حکم قرآن نے رسول اللہ کو بھی دیا تھا۔ سورہ الانفال کی آیت 60 میں ۔

وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّـهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّـهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ﴿٦٠﴾
اور تم لوگ، جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دُوسرے اعداء کو خوف زدہ کرو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمہارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہوگا(60)
ترجمہ مولانا مودودی

یہاں سے آپ آگے بڑھیں تو آیت 32 میں مفسریں یہ قصہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان گھوڑوں کے معائنہ میں اتنا مشغول ہوئے کہ اللہ کے ذکر یعنی ان کی عصر کی نماز نکل گئ ۔ جب انہوں نے یہ دیکھا کہ ان گھوڑوں کی محبت میں اللہ کے ذکر سے غفلت برتتی تو انہوں نے گھوڑوں کو دوبارہ طلب کیا اور تلوار سے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر وار کرنے لگے۔

اب کوئ ان سے پوچھے کہ یہاں عصر کی نماز،سورج، تلوار وغیرہ کا نہ تو کوئ قرینہ موجود ہے اور نہ ہی یہ الفاظ سیاق و سباق میں پائے جاتے ہیں ۔ بلکہ اصل مسلہ آیت 32 میں موجود حرف ”عن“ کا مطلب صحیح نہ لینے کی وجہ سے پیدا ہوا۔ یہ میرا موقع نہیں ہے کہ تفصیل سے اس کے بارے میں بیان کروں ۔ سمجھانے کے لئے اتنا سمجھ لیں کہ یہاں یہ لفظ ”کی وجہ سے“ کے معنوں میں آیا ہے۔ بلکل ایسے ہی جیسے سورہ ھود کی آیت 53 میں استعمال ہوا ہے ۔جہاں ھود کی قوم نے ان سے کہا کہ ان معبودوں کی عبادت صرف تمہارے کہنے ”کی وجہ سے“ ہم نہیں چھوڑیں گے۔ بلکل ایسے ہی یہاں حضرت سلیمان فرما رہے ہیں کہ میں نے اس مال کی محبت اپنے رب کی یاد کی وجہ سے اختیار کی ہے ۔ اب کیوں کہ یہ گھوڑے جہاد کے لئے استعمال ہوتے تھے, اس لئے حضرت سلیمان نے ان کو لفظ ”آلخیر“ سے تعبیر کیا ہے۔ جس کا مطلب مال کثیر بھی ہوتا ہے اور یہ گھوڑوں پر بھی مجازا بولا جاتا ہے۔

اب کوئ یہ خیال کرے کہ ذکر اللہ سے مراد نماز یا کوئ وظیفہ ہے تو یہ بھی خیال درست نہیں ۔ بنیادی طور پر تمام انبیا اور رسول، اللہ کا کلمہ بلند کرنے، اس کے ذکر کو اونچا کرنے کے لئے اس دنیا میں بھیجے جاتے تھے ۔ یہاں قرینہ ، سیاق و سباق ، الفاظ اس ہی مطلب کی طرف جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ مطلب لینا نہ تو قرآن اس کی اجازت دیتا ہے اور نہ ان آیات کا سیاق و سباق۔ پھر کچھ احباب فرماتے ہیں کہ حَتَّىٰ تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ میں یہ دلیل ہے کہ یہاں سورج کا ذکر ہے۔ جبکہ ایک آیت پہلے الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ کے الفاظ میں ان گھوڑوں کا ذکر گزر چکا ہے جو معائنہ کے لئے پیش کئے گے تھے اور جن کی مجبت کا ذکر اس سے اگلی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ سورج کے ذکر کا کوئ قرینہ نہیں ملتا۔ یہاں بات گھوڑوں کے نظروں سے اوجھل ہونے کی ہے نہ کہ سورج کے نظروں سے اوجھل ہونے کی۔
پس اس وضاحت سے بات بلکل صاف ہے کہ گھوڑوں کے معائنہ کے بعد جب ان کو واپس بلایا گیا تو اظہار محبت سے ان کی پنڈلیوں اور گردن پر مسحا کرنے لگے نہ کہ تلوار سے ان بے زبان جانوروں کا قتل عام کرنے لگے جن کا اس پورے واقعہ میں کوئ قصور نہ تھا۔

یہ میرا فہم ہے اس میں غلطی کی گنجائش موجود ہے۔


Sura 114 الناس Ayat 5 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 114 الناس Ayat 5 Translation Wahiduddin Khan


who whispers into the hearts of people,


Sura 114 الناس Ayat 4 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 114 الناس Ayat 4 Translation Wahiduddin Khan


from the mischief of every sneaking whis-perer,


Sura 114 الناس Ayat 1 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 114 الناس Ayat 1 Translation Wahiduddin Khan


Say, “I seek refuge in the Lord of people,


Sura 113 الفلق Ayat 5 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 113 الفلق Ayat 5 Translation Wahiduddin Khan


and from the evil of the envier when he envies.”


Sura 113 الفلق Ayat 4 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 113 الفلق Ayat 4 Translation Wahiduddin Khan


from the evil of those who blow on knots


Sura 113 الفلق Ayat 3 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 113 الفلق Ayat 3 Translation Wahiduddin Khan


from the evil of darkness as it descends,


Sura 113 الفلق Ayat 2 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 113 الفلق Ayat 2 Translation Wahiduddin Khan


from the evil of what He has created,


Sura 113 الفلق Ayat 1 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 113 الفلق Ayat 1 Translation Wahiduddin Khan


Say, “I seek refuge in the Lord of the daybreak


Sura 112 الإخلاص Ayat 4 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 112 الإخلاص Ayat 4 Translation Wahiduddin Khan


and there is nothing like Him.”


Sura 112 الإخلاص Ayat 3 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 112 الإخلاص Ayat 3 Translation Wahiduddin Khan


He does not give birth, nor was He born,


Sura 111 المسد Ayat 5 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 111 المسد Ayat 5 Translation Wahiduddin Khan


with a rope of twisted fibre round her neck.


Sura 111 المسد Ayat 4 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 111 المسد Ayat 4 Translation Wahiduddin Khan


and also his wife who carries the fuel,


Sura 111 المسد Ayat 3 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 111 المسد Ayat 3 Translation Wahiduddin Khan


He shall soon enter a Blazing Fire,


Sura 111 المسد Ayat 2 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 111 المسد Ayat 2 Translation Wahiduddin Khan


Neither his wealth nor his gains will avail him.


Sura 111 المسد Ayat 1 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 111 المسد Ayat 1 Translation Wahiduddin Khan


May the hands of Abu Lahab perish, may he be ruined.


Sura 110 النصر Ayat 3 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 110 النصر Ayat 3 Translation Wahiduddin Khan


then glorify your Lord with His praise and seek His forgiveness. He is always ready to accept repentance.


Sura 110 النصر Ayat 2 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 110 النصر Ayat 2 Translation Wahiduddin Khan


and you see people entering God’s religion in multitudes,


Sura 110 النصر Ayat 1 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 110 النصر Ayat 1 Translation Wahiduddin Khan


When God’s help and victory come,


Sura 109 الكافرون Ayat 6 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 109 الكافرون Ayat 6 Translation Wahiduddin Khan


You have your religion and I have mine.”


Sura 109 الكافرون Ayat 5 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 109 الكافرون Ayat 5 Translation Wahiduddin Khan


You will never worship what I worship.


Sura 109 الكافرون Ayat 4 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 109 الكافرون Ayat 4 Translation Wahiduddin Khan


I will never worship what you worship.


Sura 109 الكافرون Ayat 3 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 109 الكافرون Ayat 3 Translation Wahiduddin Khan


You do not worship what I worship.


Sura 109 الكافرون Ayat 2 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 109 الكافرون Ayat 2 Translation Wahiduddin Khan


I do not worship what you worship.


Sura 109 الكافرون Ayat 1 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 109 الكافرون Ayat 1 Translation Wahiduddin Khan


Say, “You who deny the Truth,


Sura 108 الكوثر Ayat 3 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 108 الكوثر Ayat 3 Translation Wahiduddin Khan


It is the one who hates you who has been cut off.


Sura 108 الكوثر Ayat 2 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 108 الكوثر Ayat 2 Translation Wahiduddin Khan


Pray to your Lord and sacrifice to Him alone.


Sura 107 الماعون Ayat 7 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 107 الماعون Ayat 7 Translation Wahiduddin Khan


Who are uncharitable even over very small things.


Sura 107 الماعون Ayat 6 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 107 الماعون Ayat 6 Translation Wahiduddin Khan


Those who do things only to be seen by others.


Sura 107 الماعون Ayat 5 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 107 الماعون Ayat 5 Translation Wahiduddin Khan


but whose hearts are not in their prayer.


Sura 107 الماعون Ayat 3 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 107 الماعون Ayat 3 Translation Wahiduddin Khan


and who does not urge the feeding of the poor?