Sura 4 النساء Ayat 159 Tafseer Qari Hanif Dar


و ان من اھل الکتاب الا لیومنن بہ قبل موتہ !

( دورِ مصطفی ﷺ کے )ان اھل کتاب میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو مرنے سے پہلے ان [محمد ﷺ] پر ایمان نہ لے آتا ھو اور یہ[ ﷺ ] قیامت کے دن ان پر گواہ ھونگے ـ النساء ۱۵۹

بات شروع نبئ کریم ﷺ سے ہی ھوئی ھے ،شروع رکوع دیکھئے یسئلک اھل الکتاب ان تنزل علیہم کتابا من السماء ،، یہ اھل کتاب آپ سے سوال کرتے ہیں کہ آسمان سے لکھی ھوئی کتاب لے آیئے ،، انہوں نے موسی علیہ السلام سے اس سے بھی بڑا سوال کیا تھا کہ اللہ ھم کو آمنے سامنے دکھا دو ،، فقد سالوا موسی اکبر من ذالک فقالوا ارنا اللہ جھرۃ ، اگر اس ’’ بہ ‘‘سے مراد عیسی علیہ السلام ہیں تو ان کی آمد پر ان اھل کتاب کو بھی دوبارہ زندہ کرنا چاہئے تھا تا کہ وہ ان پر ایمان لاتے ،، بعد والے تو حضرت عیسی علیہ السلام کے مخاطب ھی نہیں ہیں ،،

کیا اھل کتاب کا عیسی علیہ السلام پر ایمان لانا ان کے مسلمان ھونے کے لئے کافی ہے ؟ تو پھر اب عیسائیوں کے اس فرقے کے مسلمان ھونے میں کیا شک ھے جو ان کو خدا کا بیٹا نہیں سمجھتے ؟

نبئ کریم ﷺ کی بعثت کے بعد اب اور کوئی رسول بطور شاھد نہیں ھو سکتا ،، لیکون الرسول شھیداً علیکم و تکونوا شھداء علی الناس ،، کو منسوخ کرنا پڑے گا ـ
ھمیشہ موضوع کو لیا جاتا ھے اور ھر مثال اسی سے متعلق ھوتی ہے ،، اس کے فوری بعد ، انا اوحینا الیک والی آیت میں عیسی علیہ السلام کا ذکر ماضی کے رسولوں میں کر دیا گیا ھے ، مستقبل کے لئے کوئی گنجائش وھاں پیدا نہیں کی گئ ،، کہنا چاہئے تھا کہ ابھی تو عیسی پر آپ کے بعد بھی وحی کریں گے  !

إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَىٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ ۚ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا (163) وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا (164) رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (165)

سورس


Sura 4 النساء Ayat 159 Tafseer Muhammad Naeem Khan


سورہ النِّسَاء کی آیت 159 کی تفسیر

یہ آیت حضرت عیسی کی واپسی کے حق میں پیش کی جاتی ہے کہ جب اُن کی دوبارہ واپسی ہوگی تو اہل کتاب میں سے ہر ایک اپنی موت سے پہلے اُن پر ایمان لے آئے گا اس طرح پوری دنیا مسلمان ہوجائے گی۔قرآن کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ یہ دعوی کتنا سچا ہے اور کیا قرآن اس کی سند فرہام کرتا ہے؟۔ اس آیت کا سادہ سا ترجمہ پیش کر رہا ہوں :

وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ﴿١٥٩﴾
اور (قربِ قیامت نزولِ مسیح علیہ السلام کے وقت) اہلِ کتاب میں سے کوئی (فرد یا فرقہ) نہ رہے گا مگر وہ عیسٰی (علیہ السلام) پر ان کی موت سے پہلے ضرور (صحیح طریقے سے) ایمان لے آئے گا، اور قیامت کے دن عیسٰی (علیہ السلام) ان پر گواہ ہوں گے، (159)
ترجمہ طاہرالقادری

یہی ترجمہ یا اس سے ملتا جلتا ترجمہ مولانا مودودی، احمد رضا خان، احمد علی، جالندری، محمد جونا گڑھی وغیرہ نے کیا ہے اور اس ترجمے کے پیچھے یہی عقیدہ کارفرما ہے کہ حضرت عیسی کی واپسی ہوگی اور انہیں اللہ نے آسمان پر زندہ اُٹھالیا ہے۔ یہ تمام تراجم قرآن کو سامنے رکھ کر نہیں کئے گئے بلکہ ان کی بنیاد وہ روایات ہیں جو حضرت عیسی کی واپسی کی خبر دیتی ہیں ۔

اب اگر ہم قرآن سے ہی پوچھیں کہ جس وقت قرآن نازل ہو رہا تھا اُس وقت اھل کتاب کا کیا عقیدہ تھا؟۔ یہ بات تو قارین بخوبی جانتے ہی ہونگے کہ قرآن یہود و نصاری کو اھل کتاب کہہ کر پکارتا ہے۔ اس لئے اس میں مزید تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ۔

اگر اس ہی سورہ کی آیت 171 کا مطالعہ کریں تو وہاں اللہ اھل کتاب یعنی نصاری کو اپنے دین میں غلو کرنے اور تثلیث کے عقیدے کی نفی کر رہا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عیسائ نزول قرآن کے وقت اس عقیدہ تثلیث پر قائم تھے۔ وہ اس عقیدہ کو دل و جان سے قبول کئے ہوئے تھے کہ اللہ نے اپنا ایک بیٹا اس دنیا میں بھیجا جس نے سولی پر چڑھ کر اپنے خون سے ان کے گناہوں کا کفارہ ادا کیا۔ اب جو بھی ان پر یقین کرے گا وہی اللہ کی جنت کا حقدار ہوگا۔

اب دوسری جانب اھل کتاب کے دوسرے گروہ کا عقیدہ قرآن سے معلوم کرتے ہیں۔ اگر آپ اس ہی سورہ کی آیت 157 کا مطالعہ کریں تو اس میں اللہ یہ بات بیان کر رہا ہے کہ یہودی اس عقیدہ پر یقین رکھتے تھے کہ انہوں نے حضرت عیسی کو سولی پر چڑھا دیا تھا جس کی نفی اللہ اس آیت میں فرما رہا ہے کہ نہ تو انہوں نے حضرت عیسی کو قتل کیا اور نہ ہی اُن کو صلیب دی۔

اب یہ دونوں عقیدے نزول قرآن کے وقت اھل کتاب کے تھے۔ اھل کتاب کے یہ دونوں گروہ اس بات پر یقین رکھتے تھے اور آج بھی ان میں سے ایک کا یہی عقیدہ ہےکہ حضرت عیسی سولی پر چڑھ گئے تھےاور دوسرا اس زعم میں ہے کہ انہوں نے حضرت عیسی کو قتل کیا ہےاور صلیب پر چرھانے والے یہی تھے۔اب ان دونوں عقیدوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس آیت کا ترجمہ کریں جس کی تفسیر یہاں بیان ہو رہی ہے تو اس کا ترجمہ کچھ یوں ہوگا:

اور کوئی اہل کتاب میں ایسا نہیں ہے جو اپنی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لائے اور قیامت کے دن عیسٰی علیھ السّلام اس کے گواہ ہوں گے (159)

عربی متن میں موجود لفظ لَيُؤْمِنَنَّ واحد مذکر غائب فعل مضارع ہے یعنی ایمان لاتا ہے اور لاتا رہے گا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کس پر؟ جس کو دوسرے لفظ بِهِ نے تفسیر کی ہے جس میں ”ھ“ کی ضمیر اس پورے سیاق و سباق میں حضرت عیسی کی طرف لوٹتی ہے جن کا زکر اس سے پچھلی آیات میں چلا آرہا ہے۔ اب ہر اھل کتاب اپنی موت سے پہلے اس بات پر ایمان لاتا ہے جس کا زکر اُوپر میں نے بیان کیا۔ اس کا عقیدہ مکمل ہی نہیں ہوتا جب تک وہ اس پر ایمان نہ لائے۔ جس کے خلاف گواہی حضرت عیسی اللہ کے سامنے پیش کریں گے جس کا زکر سورہ المائدہ کی آیات 115 سے 117 میں بیان ہوا ہے۔

یہ ہے اس پوری آیت کا سیاق و سباق اور اس کی تفسیر جس کو احبات ایک غیر قرآنی عقیدہ کو ثانت کرنے کے لئے پیش کرتے ہیں ۔ یہ میرا فہم ہے جو میں نے قرآن کے مطالعے سے سمجھا۔ اس میں یقینن غلطی کی گنجائش ہوگی ۔

 


Sura 38 ص Ayat 33 Tafseer Muhammad Naeem Khan


حضرت سلیمان کا گھوڑوں کے قتل کا واقعہ

یہ واقعہ ہمیں جیسا کہ مفسرین بیان کرتے ہیں سورہ ص کی آیات 31 سے 33 میں ملتا ہے۔ یہ صرف تین آیات ہیں جن کے مطلب میں نہ تو کوئ مشکل ہے اور نہ ہی کوئ پیچیدگی لیکن نہ جانے کیوں مفسرین کو اتنی سادہ سی آیات کی ایسی تفسیر کرنی پڑی اور ان آیات میں ایسے الفاظ کا اضافہ کرنا پڑا جو عربی متن میں موجود ہی نہ تھے۔ ان آیات کا سادہ سا ترجمہ پیش کر رہا ہوں اس کے بعد اس کی تفسیر جیسا میں نے سمجھا ہے بیان کرونگا۔

إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ ﴿٣١﴾ فَقَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَن ذِكْرِ رَبِّي حَتَّىٰ تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ ﴿٣٢﴾رُدُّوهَا عَلَيَّ ۖ فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ ﴿٣٣﴾
جب اُن کے سامنے شام کے وقت نہایت سُبک رفتار عمدہ گھوڑے پیش کئے گئے، (31) تو انہوں نے (اِنابۃً) کہا: میں مال (یعنی گھوڑوں) کی محبت کو اپنے رب کے ذکر سے بھی (زیادہ) پسند کر بیٹھا ہوں یہاں تک کہ (سورج رات کے) پردے میں چھپ گیا، (32) انہوں نے کہا: اُن (گھوڑوں) کو میرے پاس واپس لاؤ، تو انہوں نے (تلوار سے) اُن کی پنڈلیاں اور گردنیں کاٹ ڈالیں (یوں اپنی محبت کو اﷲ کے تقرّب کے لئے ذبح کر دیا)، (33)
ترجمہ طاہر القادری

اب آپ تمام احباب غور کریں کہ ان آیات میں کہیں تلوار کا ذکر ہے؟ کہیں سورج کا ذکر کیا گیا ہے؟۔ چلین ان آیات پر غور کرتے ہیں ۔

واقعہ بہت سادہ سا ہے کہ حضرت سلیمان کے سامنے نہایت سبک رفتار عمدہ گھوڑے پیش کئے گئے۔ اب ظاہر ہے یہ گھوڑے حضرت سلیمان نے شوقیہ تو نہیں پالے ہوئے تھے۔ ان گھوڑوں کے رکھنے کا بھی کوئ مقصد تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ کیا مقصد تھا؟۔ اب اگر آپ قرآن کی دیگر آیات کا مطالعہ کریں تو آپ کو بخوبی معلوم ہوگا کہ حضرت سلیمان ایک عظیم سلطنت کے مالک تھے۔ جس طرح ہر سلطنت کے قیام کے لئے ایک مضبوط فوج درکار ہوتی ہے اس ہی طرح حضرت سلیمان کے پاس بھی ایک مضبوط فوج تھی۔ اب اس زمانے میں ٹینک یا دوسرا جدید جنگی سامان تو تھا نہیں ،سوائے اس کے کہ سواری کے لئے سبک رفتار عمدہ گھوڑے جنگوں میں کام آیا کرتے تھے۔ یہ جنگوں میں کلیدی کردار ادا کیا کرتے تھے۔ ان کی دیکھ بھال اور ان کا معائنہ فوج کی بحالی اور کسی بھی ناگہانی جنگ کی تیاری کے لئے نہایت اہم ہے۔ ایسی پریڈز آجکل تمام دنیا میں عام بات ہے۔ اس کے علاوہ اللہ نے حضرت سلیمان کے لئے لوہے کے چشمے بہا دیے تھے۔ جس سے وہ جنگی سازوسامان تیار کیا کرتے تھے۔ ہواوں کو ان کے لئے مسخر کردیا تھا۔ ان کے بحری بیڑے سمندروں کی مسافت مہینوں کا سفر دنوں میں طے کیا کرتے تھے۔ یہ سب فضل اللہ کا ان پر تھا۔

اب چونکہ تمام رسولوں کو یہی ہدایت دی گئ تھی کہ دشمنوں کے مقابلے میں اپنا جنگی سامان تیار رکھیں تاکہ ان کے دلوں میں رعب قائم رہے۔ یہ جنگی سامان کسی پر ظلم کے لئے نہیں بلکہ انسانوں کو ظلم سے نکالنے اور اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے کام آتے تھے۔ بلکل ایسا ہی حکم قرآن نے رسول اللہ کو بھی دیا تھا۔ سورہ الانفال کی آیت 60 میں ۔

وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّـهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّـهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ﴿٦٠﴾
اور تم لوگ، جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دُوسرے اعداء کو خوف زدہ کرو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمہارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہوگا(60)
ترجمہ مولانا مودودی

یہاں سے آپ آگے بڑھیں تو آیت 32 میں مفسریں یہ قصہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان گھوڑوں کے معائنہ میں اتنا مشغول ہوئے کہ اللہ کے ذکر یعنی ان کی عصر کی نماز نکل گئ ۔ جب انہوں نے یہ دیکھا کہ ان گھوڑوں کی محبت میں اللہ کے ذکر سے غفلت برتتی تو انہوں نے گھوڑوں کو دوبارہ طلب کیا اور تلوار سے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر وار کرنے لگے۔

اب کوئ ان سے پوچھے کہ یہاں عصر کی نماز،سورج، تلوار وغیرہ کا نہ تو کوئ قرینہ موجود ہے اور نہ ہی یہ الفاظ سیاق و سباق میں پائے جاتے ہیں ۔ بلکہ اصل مسلہ آیت 32 میں موجود حرف ”عن“ کا مطلب صحیح نہ لینے کی وجہ سے پیدا ہوا۔ یہ میرا موقع نہیں ہے کہ تفصیل سے اس کے بارے میں بیان کروں ۔ سمجھانے کے لئے اتنا سمجھ لیں کہ یہاں یہ لفظ ”کی وجہ سے“ کے معنوں میں آیا ہے۔ بلکل ایسے ہی جیسے سورہ ھود کی آیت 53 میں استعمال ہوا ہے ۔جہاں ھود کی قوم نے ان سے کہا کہ ان معبودوں کی عبادت صرف تمہارے کہنے ”کی وجہ سے“ ہم نہیں چھوڑیں گے۔ بلکل ایسے ہی یہاں حضرت سلیمان فرما رہے ہیں کہ میں نے اس مال کی محبت اپنے رب کی یاد کی وجہ سے اختیار کی ہے ۔ اب کیوں کہ یہ گھوڑے جہاد کے لئے استعمال ہوتے تھے, اس لئے حضرت سلیمان نے ان کو لفظ ”آلخیر“ سے تعبیر کیا ہے۔ جس کا مطلب مال کثیر بھی ہوتا ہے اور یہ گھوڑوں پر بھی مجازا بولا جاتا ہے۔

اب کوئ یہ خیال کرے کہ ذکر اللہ سے مراد نماز یا کوئ وظیفہ ہے تو یہ بھی خیال درست نہیں ۔ بنیادی طور پر تمام انبیا اور رسول، اللہ کا کلمہ بلند کرنے، اس کے ذکر کو اونچا کرنے کے لئے اس دنیا میں بھیجے جاتے تھے ۔ یہاں قرینہ ، سیاق و سباق ، الفاظ اس ہی مطلب کی طرف جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ مطلب لینا نہ تو قرآن اس کی اجازت دیتا ہے اور نہ ان آیات کا سیاق و سباق۔ پھر کچھ احباب فرماتے ہیں کہ حَتَّىٰ تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ میں یہ دلیل ہے کہ یہاں سورج کا ذکر ہے۔ جبکہ ایک آیت پہلے الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ کے الفاظ میں ان گھوڑوں کا ذکر گزر چکا ہے جو معائنہ کے لئے پیش کئے گے تھے اور جن کی مجبت کا ذکر اس سے اگلی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ سورج کے ذکر کا کوئ قرینہ نہیں ملتا۔ یہاں بات گھوڑوں کے نظروں سے اوجھل ہونے کی ہے نہ کہ سورج کے نظروں سے اوجھل ہونے کی۔
پس اس وضاحت سے بات بلکل صاف ہے کہ گھوڑوں کے معائنہ کے بعد جب ان کو واپس بلایا گیا تو اظہار محبت سے ان کی پنڈلیوں اور گردن پر مسحا کرنے لگے نہ کہ تلوار سے ان بے زبان جانوروں کا قتل عام کرنے لگے جن کا اس پورے واقعہ میں کوئ قصور نہ تھا۔

یہ میرا فہم ہے اس میں غلطی کی گنجائش موجود ہے۔


Sura 114 الناس Ayat 5 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 114 الناس Ayat 5 Translation Wahiduddin Khan


who whispers into the hearts of people,


Sura 114 الناس Ayat 4 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 114 الناس Ayat 4 Translation Wahiduddin Khan


from the mischief of every sneaking whis-perer,


Sura 114 الناس Ayat 1 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 114 الناس Ayat 1 Translation Wahiduddin Khan


Say, “I seek refuge in the Lord of people,


Sura 113 الفلق Ayat 5 Translation Wahiduddin Khan

May 4, 2017

English Translation, Wahiduddin Khan

Comments Off on Sura 113 الفلق Ayat 5 Translation Wahiduddin Khan


and from the evil of the envier when he envies.”